سینیٹ کی نشست پر ضمنی انتخاب، مشیر خزانہ شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی چیلنج

شوکت ترین

پشاور (پاک صحافت) سینیٹ کی خالی نشست پر ضمنی انتخاب کے سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی چیلنج کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آی) نے شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے ایوب آفریدی سے استعفیٰ لیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا سے سینیٹ کے خالی نشست پر انتخابات کے لیے مشیر خزانہ شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کردیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی عوامی نیشنل پارٹی  (اے این پی) کے امیدوار امیر زادہ کی جانب سے چیلنج کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیدوار امیر زادہ کی جانب سے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شوکت ترین مردان کے رہائشی نہیں ہیں اور نہ ہی الیکٹورل رول میں رجسٹرڈ ہیں جب کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ جو الیکٹورل رول جمع ہے وہ بھی سرٹیفائیڈ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ مردان کے ووٹر ہی رجسٹرڈ نہیں تو سینیٹ میں الیکشن کیسے لڑ سکتے ہیں؟۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں