یہودی شرپسندوں نے ایک فلسطینی شہری کو اغوا کرکے بے رحمی سے شہید کردیا

یہودی شرپسندوں نے ایک فلسطینی شہری کو اغوا کرکے بے رحمی سے شہید کردیا

کل بدھ کے روز یہودی شرپسندوں نے ایک فلسطینی شہری کو اغوا کرنے کے بعد بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کر دیا، شہید فلسطینی کی لاش ایک یہودی کالونی کے اندر سے پھندے سے لٹکی پائی گئی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز نامعلوم مسلح افراد نے 37 سالہ عبدالفتاح محمد عبیات کو بیت لحم کے نواحی علاقے ھندازہ سے اغوا کیا اور اسے نامعلوم مقام پر لے گئے، بعد ازاں اس کی لاش جنوبی بیت المقدس میں قائم گیلو یہودی کالونی سے ملی جہاں کے گلے میں رسی ڈال کر اسے لٹکایا گیا تھا اور اس کے جسم پر تشدد کے بھی نشانات موجود ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید کے اہل خانہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عبیات کو یہودی دہشت گردوں نے اغوا کرنے کے بعد بے دردی کے ساتھ شہید کیا ہے، اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عبیات کا کسی کے ساتھ کوئی تنازع نہیں تھا، اسے یہودی دہشت گردوں نے محنت مزدوری کرنے کی پاداش میں تشدد کر کے شہید کیا ہے۔

خیال رہے کہ گیلو یہودی کالونی کے بیشتر آباد کار حریدیم نامی یہودی مذہبی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں کینیڈا، روس اورآسٹریلیا سے لایا گیا ہے۔

مذکورہ یہودی کالونی میں آبادکاروں کی تعداد 50 ہزار سے زاید ہے، سنہ 2016ء کے بعد اس کالونی میں 29 بار توسیعی منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، فلسطین کے نواحی علاقے وادی کریمزون کے ایک بڑے حصے کو اس کالونی کاحصہ بنایا گیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں