ایرانی پارلیمنٹ نے جوہری تنصیبات کے حوالے سے اہم بل منظور کرلیا

ایرانی پارلیمنٹ نے جوہری تنصیبات کے حوالے سے اہم بل منظور کرلیا

ایرانی پارلیمنٹ نے جوہری تنصیبات کے حوالے سے اہم بل منظور کرلیا ہے جس کے تحت اب اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو

تہران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ نے ایک بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو تہران

کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق مذکورہ بل کے تحت اگر جوہری معاہدے 2015 کے دستخط کنندہ ممالک تیل اور

بینکنگ پر عائد پابندیوں میں نرمی نہیں کرتے تو حکومت یورینیم کی افزودگی کو بڑھانے پر ساری توانائی خرچ کرے گی۔

بل کی منظوری کا معاملہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ کے اواخر میں ایران کے ممتاز ایٹمی سائنس دان کو قتل کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہی تمام جوہری پالیسیوں کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ قانون ساز اس سخت فیصلے کے ذریعے پابندیاں ختم کرنے کے لیے پرامید ہیں،

حتمی ووٹ کی تعداد فوری طور پر جاری نہیں کی گئی لیکن ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق 290 نشستوں والے چیمبر

میں 251 قانون سازوں نے بل کے حق میں ووٹ دیا، بعد ازاں متعدد اراکین نے "امریکا اور اسرائیل مردہ باد” کے نعرے لگائے۔

اس بل کے تحت یورپی ممالک کو ایران کے تیل اور گیس کے اہم شعبے پر عائد پابندیوں کو کم کرنے اور بینکاری نظام تک

رسائی کو بحال کرنے کے لیے ایک مہینہ مل جائے گا، اس بل میں حکام کو یورینیم کی افزودگی 20 فیصد تک بڑھانے کی اجازت

ہوگی جو جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار حد سے نیچے ہے، لیکن توانائی کے شعبوں کے لیے درکار ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ کیے معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر

مزید معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں جبکہ معاہدے کے دیگر عالمی فریقین برطانیہ، جرمنی، فرانس، روس اور چین نے ایران سے معاہدہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران نے جوہری ہتھیار لے جانے والے میزائل تیار کرلیے ہیں، اگر معاہدے کو جاری رکھا تو جوہری

ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی اور ایک ایسی ریاست کو جوہری ہتھیار کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو امریکا کی بربادی کے نعرے لگاتی ہو۔

واضح رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکا کی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے دو سال مکمل ہونے پر

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا تھا واشنگٹن سے جواب طلب کیا جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ غیر قانونی ہٹ دھرمی سے اقوام متحدہ کی ساکھ خراب ہورہی ہے اور عالمی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں