پرائیویسی پالیسی، واٹس ایپ نے زیر گردش تمام افواہوں کی تردید کردی

واٹس ایپ

سان فرانسسکو ( پاک صحافت) میسجنگ اور ویڈیو کالنگ کی مقبول ترین ایپ واٹس ایپ نے پرائیویسی پالیسی سے متعلق زیر گردش تمام افواہوں کی تردید کردی۔  خیال رہے کہ نئی پالیسی سامنے آنے کے بعد یہ افواہیں زیرگردش تھیں کہ واٹس ایپ نے اپنے صارفین سے تمام قسم کے ڈیٹا کی منتقلی کی اجازت مانگ لی ہے جس کے بعد کمپنی اپنی مرضی سے یہ تفصیلات فیس بک سمیت کسی بھی تھرڈ پارٹی کو فروخت کرسکتی ہے۔ تاہم واٹس ایپ کے سربراہ نے ایسی تمام خبروں کو مسترد کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق منگل کے روز واٹس ایپ کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی جس کو انہوں نے ’کچھ افواہوں‘ کا جواب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ صارفین کا ڈیٹا مکمل محفوظ ہے، اُن کے پیغامات انکرپٹڈ ہی رہیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل میسیجنگ ایپ یہ کہہ چکی ہے کہ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن‘ کی موجودگی کی صورت میں صارف کی گفتگو کو پہلے کی طرح واٹس ایپ سمیت کوئی بھی کمپنی نہیں دیکھ سکے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ، فیس بک سمیت کوئی بھی کمپنی صارف کے پرائیوٹ میسجز یا کالز تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی۔

واضح رہے کہ کمپنی کے مطابق واٹس ایپ کے پاس یہ ریکارڈ ظاہر نہیں ہوگا کہ صارف کے پاس کس کا پیغام یا کال آئی۔ کمپنی نے وضاحت کی کہ واٹس ایپ اور فیس بک صارف کی شیئر کردہ لوکیشن نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی کوئی اُس کی مانیٹرنگ کا مجاز ہوگا۔ صارف کے واٹس ایپ پر موجود نمبر فیس بک سمیت کسی بھی کمپنی کے ساتھ شیئر نہیں کیے جائیں گے۔ واٹس ایپ کے تمام گروپس پرائیوٹ رہیں گے اور اُن کی چیٹ تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ہوگی۔

واٹس ایپ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ صارف کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ موصول ہونے والے میسج خود بہ خود غائب کرنے کی سہولت سے استفادہ کرسکتا ہے، ایسے پیغامات متعلقہ وقت کے بعد سسٹم سے بھی خود بہ خود ختم ہوجائیں گے۔ صارف اپنا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر سکے گا۔ جس کے ذریعے وہ یہ دیکھ سکے گا کہ واٹس ایپ کے پاس اس کی کون کون سی ذاتی معلومات موجود ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں