کورونا وائرس ویکسین کب تک ملک میں دستیاب ہوگی؟ جانیئے اس رپورٹ میں

یہ سوال تقریباً ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ ہمارے ملک میں کب تک اور کون سی ویکسین دستیاب ہوگی اور اس کی قیمت کیا ہوگی؟ لیکن ان انتہائی اہم سوالوں کے حتمی جوابات ملنا فی الحال ناممکن ہیں۔

اگرچہ حکومت پاکستان نے کورونا کی کوئی بھی ویکسین خریدنے کے لیے 10 کروڑ ڈالرز مختص کردیے ہیں اور حکومت کوئی بھی ویکسین حاصل کرنے کے لیے نہ صرف سفارتی تعلقات کو استعمال کر رہی ہے بلکہ عالمی اداروں کے پلیٹ فارمز کو بھی اس ضمن میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

7 دسمبر 2020 کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا تھا کہ حکومت کورونا ویکسین حاصل کرنے کے لیے چین اور روس سمیت دیگر ممالک سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور حکومت کو اُمید ہے کہ ویکسین آئندہ سال جنوری سے مارچ کے درمیان ملک میں دستیاب ہوگی۔

اگرچہ انہوں نے واضح نہیں کیا تھا کہ حکومتِ پاکستان فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کے بجائے چین یا روس کی تیار کردہ ویکسین حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تاہم ان کی جانب سے ویکسین حاصل کرنے کے لیے چین و روس جیسے ممالک سے حکومتی مذاکرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ان ہی ممالک کی ویکسین استعمال کرنے کا خواہاں ہے، تاہم اس بات کی حکومت کی جانب سے کوئی تصدیق نہیں کی گئی کہ پاکستان صرف چین یا روس کی ویکسین پر انحصار کرتا ہے۔

ماہرین صحت اور حکومتی بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کے بجائے چین یا روس کی ویکسین پر انحصار کرے گا، کیوں کہ فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین پاکستان کے موسمی حالات کی وجہ سے یہاں اتنی مؤثر نہیں ہوگی۔

پاکستان میں ویکسین پہنچنے سے قبل ہی اس کے حوالے سے سازشی خیالات پھیلنا شروع ہوگئے ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز
فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کے حتمی ٹرائل ختم ہونے کے بعد طبی ماہرین نے بتایا تھا کہ ان کمپنیوں کی ویکسین کو اسٹور کرنے کے لیے منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم کی ضرورت ہوگی اور پاکستان میں موسم اس سے زیادہ گرم رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق فائزر و بائیو این ٹیک کو جنوبی ایشیا سمیت لاطینی امریکی ممالک میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، کیوں کہ وہاں پر موسم گرم رہتا ہے، اس لیے ویکسین کو وہاں کے دور دراز علاقوں تک پہنچانے کے لیے پولیو قطروں کی طرح خصوصی اسٹوریج کے انتظامات کرنا پڑیں گے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین کو گرم علاقوں تک پہنچانے کے لیے کولنگ اسٹوریج کی ضرورت ہوگی، کیوں کہ مذکورہ ویکسین کی افادیت پر منفی 70 ڈگری سے زائد گرم موسم میں اثر پڑتا ہے۔

پاکستان میں گرم موسم ہونے کی وجہ سے بھی حکومت مذکورہ ویکسین کو حاصل کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لے گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگرچہ تاحال حکومت پاکستان نے کسی بھی ویکسین کو استعمال کرنے کی منظوری نہیں دی مگر ملک میں چین کی ویکسین کے جاری آزمائشی پروگرام کی وجہ سے بھی لوگوں میں ویکسین سے متعلق منفی خیالات پائے جاتے ہیں۔

پاکستان میں بہت سارے افراد سمجھتے ہیں کہ کورونا ویکسین مرد حضرات کی تولیدی صحت ختم کرے گی اور اس میں کسی کو مارنے کی صلاحیت سمیت فائیو جی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، تاہم درحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں۔

ماہرین صحت، حکومتی عہدیداروں اور مذہبی رہنماؤں نے کورونا ویکسین سے متعلق لوگوں میں پائے جانے والے ایسے خطرناک خیالات اور سازشوں سے نمٹنے کے لیے بر وقت حکمت عملی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، یہاں تک اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی کورونا ویکسین سے متعلق پھیلنے والی افواہوں کو غلط اور مغربی سازش قرار دیا ہے۔

اس وقت جب کہ کورونا کی کوئی بھی ویکسین عام استعمال نہیں کی جا رہی ہے اور اسے مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش نہیں کیا گیا، ایسے میں کورونا کی کسی بھی ویکسین کی قیمت کا تعین کرنا مشکل ہے، تاہم کئی طبی کاروباری ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر طرح کی ویکسین کی قیمت 4 امریکی ڈالر سے 50 امریکی ڈالرز کے درمیان ہوگی۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ فائز و بائیو ٹیک کی ویکسین کی قیمت کیا ہوگی، تاہم امکان ہے کہ ان کی ویکسین کے ایک ڈوز کی قیمت 4 امریکی ڈالر تک ہوگی جو پاکستانی 650 روپے تک بنتے ہیں یعنی ایک شخص کو مکمل دو ڈوز حاصل کرنے کے لیے 1300 روپے تک خرج کرنے پڑیں گے، ساتھ ہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ویکسین کی قیمت اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔

ایک اور امریکی اقتصادی جریدے فوربز کے مطابق فائزر و بائیو این ٹیک کی ایک ویکسین کی قیمت 20 امریکی ڈالر سے کم یعنی پاکستانی تین ہزار روپے سے زائد تک ہوسکتی ہے اور ہر شخص کو 2 ویکسین لگیں گی، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر شخص 7 ہزار روپے تک قیمت ادا کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق دوسری ویکسینز فائزر و بائیو این ٹیک کی ویکسین سے کم از کم 5 ڈالر مہنگی ہوسکتی ہیں اور عام طور پر دوسری ویکسینز کی قیمت 25 ڈالر سے 35 ڈالرز کے درمیان ہوں گی اور دیگر کمپنیوں کی ویکسینز بھی ہر شخص کو 2 لگیں گی، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ چین و روس کی ویکسینز ان سے سستی ہوں گی اور جیسے ہی ویکسینز کو ہر ملک کی مقامی کمپنی تیار کرنے لگے گی، ویکسینز کی قیمتیں مزید کم ہوں گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں