پاکستانی ٹیم کو نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کی جانب سے ٹریننگ کی اجازت نہیں ملی، پی سی بی نے مایوسی کا اظہار کیا

پاکستانی ٹیم کو نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کی جانب سے ٹریننگ کی اجازت نہیں ملی، پی سی بی نے مایوسی کا اظہار کیا

دورہ نیوزی لینڈ پر قومی ٹیم کو گروپ ٹریننگ کے لیے استثنیٰ نہ دیے جانے کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے دورہ نیوزی لینڈ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ کرائسٹ چرچ میں پاکستانی دستہ آئسولیشن کا سلسلہ برقرار رکھے گا اور انہیں گروپ ٹریننگ کا استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا، ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسکواڈ کے دیگر اراکین میں وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ میں موجود پاکستان کے 54 رکنی دستے میں سے 44 اراکین کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں جن میں سے چھ کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آئے جبکہ 4 کیسز تاریخی نوعیت کی ہیں اور وہ زیادہ فعال کیسز نہیں۔

پاکستانی ٹیم کی قرنطینہ کی مدت 9 دسمبر کو ختم ہو گی اور مدت کے خاتمے کے بعد بھی ٹیم کو گروپ ٹیم میں اجازت دینے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا نیوزی لینڈ حکومت انہیں اس کی اجازت دیتی ہے یا نہیں۔

ادھر پاکستانی ٹیم ٹریننگ کی اجازت نہ ملنے اور مسلسل آئسولیشن کی وجہ سے کھلاڑی انتہائی افسردگی کا شکار ہیں جس کے بعد پی سی بی کے اعلیٰ حکام نے کپتان بابراعظم اور ہیڈکوچ مصباح الحق سے بات چیت کی۔

پی سی بی کے اعلیٰ حکام نے ٹیم مینجمنٹ سے بات کرنے کے بعد دورہ نیوزی لینڈ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی سی بی نے قومی اسکواڈ کو ٹریننگ جاری رکھنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا لیکن ہیڈ کوچ مصباح الحق اور کپتان بابراعظم نے پی سی بی کو دورہ نیوزی لینڈ پر تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کپتان اور ہیڈ کوچ کا کہنا ہے کہ یہ مشکل وقت ہے، اُمید ہے کہ نیوزی لینڈ میں حالات بہتر ہو جائیں گے اور تین چار دن بعد ٹریننگ کی اجازت مل جائے گی۔

کرکٹ کی مشہور ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وسیم خان نے اپنے ایک بیان میں نیوزی لینڈ کرکٹ کے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیا۔

وسیم خان نے، جن کھلاڑیوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں، انہیں ٹریننگ کا استثنیٰ نہ دینے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جبکہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دستے کے جن 44 اراکین کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں اس حوالے سے کوئی اعلان بھی نہیں کیا گیا جبکہ مثبت کیسز کے بارے میں فوری رپورٹ کردیا گیا۔

نیوزی لینڈ کے محکمہ ہیلتھ کے ڈائریکٹر جنرل ایشلے بلوم فلیڈ نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی صورتحال کو جانچ کر ٹریننگ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم میں متعدد فعال کیسز رپورٹ ہوئے جو صحت عامہ کے لیے نقصان دہ ہیں اور پاکستانی ٹیم کو اب مزید چار دن آئسولیشن میں گزارنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ 24 نومبر کو نیوزی لینڈ پہنچنے والی پاکستان ٹیم کا قرنطینہ کا آج دسواں دن ہے۔

ایشلے بلوم فیلڈ نے مزید کہا کہ ٹریننگ کی اجازت نہ ملنا پاکستانی ٹیم کے لیے ایک مشکل لمحہ ہے اور ہم پاکستانی ٹیم کے حوصلے کی داد دیتے ہیں۔

جن 10 ارکان پر شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کا روزانہ کی بنیاد پر ہیلتھ چیک اپ کیا جارہا ہے۔

کرائسٹ چرچ میں 43 ارکان کی چوتھی کووڈ-19 ٹیسٹنگ جمعرات کے روز ہوئی تھی جبکہ آکلینڈ میں موجود ٹیم کے ایک رکن کی ٹیسٹنگ وہیں کی گئی۔

نیوزی لینڈ کی وزارت صحت نے قومی اسکواڈ کو اپنی 14 روزہ آئسولیشن کی مدت ہوٹل میں ہی پوری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قومی اسکواڈ آئسولیشن کے دوران ٹریننگ نہیں کرے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان کی ٹیم ٹی 20 اور ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے نیوزی لینڈ پہنچی تو 6 کھلاڑی کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے تھے۔

ان اراکین کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد آئسولیشن میں قومی ٹیم کو ٹریننگ کے لیے دیا گیا استثنیٰ واپس لے لیا گیا تھا۔

جن چھ کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے ان میں سے دو پرانے کیسز تھے لیکن وہ فعال نہیں تھے جبکہ چار فعال کیسز تھے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کی جانب سے قرنطینہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی پر آخری وارننگ دی تھی اور مزید خلاف ورزی کی صورت میں قومی ٹیم کا دورہ ختم ہونے کا بھی امکان تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے 6 کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد نیوزی لینڈ میں موجود ٹیم کو خبردار کیا تھا کہ کورونا سے متعلق گائیڈ لائنز پر عمل نہیں کیا گیا تو ٹیم کو واپس بھیج دیا جائے گا۔

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ یہ قومی عزت اور ملک کے احترام کی بات ہے اور اگر انہوں نے ٹیم کو نیوزی لینڈ سے واپس بھیج دیا تو بے عزتی والی بات ہوگی، تاہم بعدازاں کھلاڑیوں کی جانب سے ذمے دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنے پر قومی اسکواڈ کو دوبارہ چہل قدمی کی اجازت مل گئی تھی اور اسپورٹس اسٹاف اور کھلاڑی اپنے اپنے گروپ کے لیے مقررہ مخصوص اوقات میں چہل قدمی کرسکتے تھے، چہل قدمی کی یہ اجازت اسکواڈ کے ان اراکین کو ملی جن کے مسلسل دو ٹیسٹ منفی آئے۔

ابھی قومی اسکواڈ ابتدائی دھچکے سے سنبھلا بھی نہ تھا کہ ہفتے کو ایک اور رکن کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا البتہ اس مرتبہ کسی کی جانب سے پروٹوکول کی خلاف ورزی رپورٹ نہیں کی گئی، چند دن قومی ٹیم کے ایک اور رکن کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد قومی ٹیم کو آئسولیشن میں رہنے کی ہدایت کردی گئی۔

بابر اعظم کی قیادت میں نیوزی لینڈ پہنچنے والے پاکستان کے 53 رکنی دستے کے لیے 24 نومبر کو نیوزی لینڈ پہنچنے کے بعد دو ہفتے لازمی قرنطینہ میں رہنا تھا۔

پاکستانی ٹیم تین ٹی20 اور دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے 23 نومبر کو نیوزی لینڈ روانہ ہوئی تھی، قومی ٹیم 18، 20 اور 22 دسمبر کو بالترتیب آکلینڈ، ہملٹن اور نیپیئر میں ٹی 20 میچز کھیلے گی جس کے بعد وہ میزبان ٹیم سے 2 ٹیسٹ میچز بھی کھیلے گی۔

سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ باکسنگ ڈے پر 26 دسمبر کو شروع ہو گا جبکہ کرائسٹ چرچ میں دوسرا ٹیسٹ میچ 3 جنوری سے کھیلا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں