ہزارہ کان کنوں کی لاشوں کو دفن کردیاگیا

ہزارہ کان کنوں کی لاشوں کو دفن کردیاگیا

کوئٹہ (پاک صحافت) ہزارہ براداری کے کوئلے کان کنوں کی نعشوں کودفنادیاگیا۔گیارہ کوئلے کے کان کن ، جو تین جنوری کو ایک حملے میں بے دردی سے ہلاک ہوئے تھے ، انہیں ہفتے کے روز کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں نماز جنازہ کے قریب 5 ہزار افراد شریک تھے۔اس موقع پر وفاقی وزیر علی زیدی ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری ، قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری ، صوبائی وزیر داخلہ اور دیگر صوبائی وزراء اور سول سوسائٹی کے رہنما بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: مچھ سانحہ: لواحقین کی میتوں کی تدفین پر رضامندی

ہزارہ ٹاؤن قبرستان میں تدفین کے بعد امام بارگاہ ولی عصر میں نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔مظاہرین نے، جنہوں نے قبل ازیں میتوں کو دفن کرنے سے انکار کر دیا تھا جب تک کہ وزیر اعظم عمران خان ان کی عیادت نہیں کرتے اور ان کے خدشات دور نہیں کرتے ، چھ دن تک اپنے پیاروں کی میتوں کے ساتھ سڑک پر دھرنا دیا اور بالآخر مذاکرات کے بعد لاشوں کو دفن کرنے پر راضی ہوگئے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے کل اعلان کیا تھا کہ کان کنوں کی تدفین کے بعد وزیر اعظم کوئٹہ پہنچیں گے۔قابل ذکر ہے کہ3 جنوری کو گیارہ کان کنوں کا بے دردی سے قتل عام کیا گیا تھا ، جب مسلح حملہ آور ان کے رہائشی کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے اورانہیں نیند سے جگاکر آنکھوں پر پٹی باندھ کر گلے کاٹ دیئے گئے۔

دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔اسی دن رشتہ داروں اور رہائشیوں نے کوئٹہ کے مضافات میں مغربی بائی پاس پر تابوتوں کے ہمراہ احتجاج شروع کیا اور وزیر اعظم کے دورے اور تحفظ کی یقین دہانی تک  تدفین سے انکار کردیا۔بعد ازاں یہ احتجاج پشاور ، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گیا ، جہاں مظاہرین نے ٹریفک کو درہم برہم کرتے ہوئے متعدد اہم سڑکیں بند کردی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں