حکومت کے جوابات پر ناراض اپوزیشن کا سینیٹ سے واک آوٴٹ

حکومت کے جوابات پر ناراض اپوزیشن کا سینیٹ سے واک آوٴٹ

اسلام آباد (پاک صحافت) سینیٹ میں حزب اختلاف نےچین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) اتھارٹی سے متعلق سوالات پر "حکومت کے غیر تسلی بخش جواب” کے خلاف احتجاج کے طور پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔اپوزیشن نے سی پی ای سی اتھارٹی کی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب اس بارے میں آرڈیننس ختم ہوچکا ہے تو تنظیم کس طرح اپنا کام جاری رکھ سکتی ہے۔

سوالیہ وقت کے دوران، اتھارٹی کی جانب سے اب تک لئے گئے انتظامی اور مالی فیصلوں کی قانونی نوعیت کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے۔تحریری جواب میں حکومت نے کہا کہ مئی 2020 میں سی پی ای سی اتھارٹی آرڈیننس ختم ہوگیا اور سی پی ای سی اتھارٹی بل قومی اسمبلی میں زیر التوا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کے تمام انتظامی اور مالی فیصلے متعلقہ وزارتوں کے قواعد و ضوابط کے مطابق لئے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: باجوہ کس حیثیت سے چینی سفیر سے ملے،حزب اختلاف کا واک آوٴٹ

ممبران نے سی پی ای سی اتھارٹی کے بارے میں بات کرنے کاکہا اور صوبائی خود مختاری پر حملہ کا الزام لگایا۔حزب اختلاف کی جماعتوں کے ممبروں نے ان کے سوالات کے جوابات کو "ناکافی” قرار دیا اور احتجاج میں واک آؤٹ کیا۔سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے سندھ میں وفاقی حکومت کے ممکنہ طور پر کچھ اسپتالوں کے قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا “سندھ کے قومی ادارے برائے امراض قلب ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چلڈرن ہیلتھ اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی پوری دنیا میں اپنی ایشیاء میں مشہور ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ ملک بھر سے لوگ علاج کے لئے وہاں جاتے ہیں کیونکہ ملک میں کوئی دوسرا اسپتال نہیں ہے جو ایک ہی معیار کی دیکھ بھال کرتا ہے ، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے ان کو سنبھالنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان اسپتالوں کے ملازمین محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے جو انصاف پر مبنی ہو۔

 

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں