جو بائيڈن کے مشیر برائے قومی سلامتی نے ایران کے حوالے سے اہم اعلان کردیا

جو بائيڈن کے مشیر برائے قومی سلامتی نے ایران کے حوالے سے اہم اعلان کردیا

واشنگٹن(پاک صحافت) امریکہ کے منتخب صدر جو بائيڈن کے نامزد مشیر برائے قومی سلامتی نے جیک سولیون ایران کے حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے میں امریکہ کی واپسی کے لیے ایران کے بیلسٹک میزائیل پروگرام کے بارے میں مذاکرات ضروری ہیں۔

جیک سولیون نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے میں واپسی، زیادہ وسیع مسائل کے بارے میں اگلے مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ایران کے سلسلے میں ٹرمپ حکومت کے اقدامات، امریکہ کے زیادہ محفوظ ہونے کا سبب نہیں بنے اور تہران، ایٹمی ہتھیاروں تک رسائي کے مزید قریب ہو گيا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ آٹھ مئی دو ہزار اٹھارہ کو ایٹمی سمجھوتے سے غیر قانونی طور پر باہر نکل گيا تھا اور اس کے بعد اس نے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لیے اس کے خلاف پابندیاں بحال کر دی تھیں۔

امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت کا خاتمہ ہونے والا ہے اور وہ ایران کے سلسلے میں اپنا کوئي بھی ہدف حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ  نے امریکہ کی طرف سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جوبائیڈن کو ٹرمپ کی غلطیوں کی تلافی کرنا پڑے گی اور ایران کی نظر جو بائيڈن کے عملی اقدامات پر  رہےگی۔

سعید خطیب زادہ نے کہا  تھاکہ امریکہ کے لئے عالمی قوانین پر عمل کے علاوہ کوئي دوسرا راستہ نہیں ہے، سعید خطیب زادہ نے کہا کہ امریکہ نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کرکے ایرانی حکومت اور عوام کو اربوں ‍ڈالر کانقصان پہنچایا ہے جس کی تلافی ضروری ہے۔

 انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف  شرارت اور اقتصادی جنگ کو ختم کردینا چاہیے کیونکہ امریکہ کے ان اقدامات سے ایران پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، امریکہ کو عالمی قوانین کا احترام کرنا چاہیے اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے پرہیز کرنا چاہیے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں