اسرائیلی دہشت گرد فوج نے سال 2020ء میں 8 بچوں سمیت 48 فلسطینیوں کو شہید کیا: رپورٹ

اسرائیلی دہشت گرد فوج نے سال 2020ء میں 8 بچوں سمیت 48 فلسطینیوں کو شہید کیا: رپورٹ

رام اللہ:(پاک صحافت) فلسطین میں اسیران اور شہدا فورم کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2020ء کے دوران اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 48 فلسطینی شہید ہوئے، شہدا میں دو خواتین اور 8 بچے شامل ہیں۔

فلسطینی شہدا و اسیران فورم کے سیکرٹری جنرل محمد صبیحات نے بتایا کہ پوری دنیا میں کرونا کی وبا نے انسانیت کو اپے حصار میں لیے رکھا، فلسطینی قوم کو کرونا کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ریاست کے ظلم وتشدد کا بھی مسلسل سامنا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کی جانب سے اسرائیلی فوجی عدالتوں کی ظالمانہ کاروائیوں پر رپورٹ جاری کردی گئی

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے حملوں میں گذشتہ برس شہید ہونے والوں میں بچے، خواتین اور معذور افراد بھی شامل تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ فورم کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق سال 2020ء کے دوران 48 فلسطینی شہید ہوئے،ان میں 36 غرب اردن اور 12 غزہ کی پٹی سے تعلق رکھتے ہیں، شہدا میں دو خواتین اور 46 مرد ہیں، شہدا میں سب سے کم عمر 13 سالہ علی ایمن ابو علیا ہیں جنہیں 4 دسمبر 2020ء کو اسرائیلی فوج نے رام اللہ کے نواحی علاقے المغیر میں گولیاں ‌مار کر شہید کیا گیا۔

اس کے علاوہ شہدا میں 75 سالہ سعدی محمود خلیل الغرابلی کو غزہ کی پٹی کے مشرقی علاقے الشجاعیہ میں گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔

دوسری جانب فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2020ء کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے 76 فلسطینیوں کو گرفتار کیا، گرفتار ہونے والوں میں ایک عمر رسیدہ خاتون بھی شامل ہیں۔

فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی گرفتاریاں ہر ماہ جاری رہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے کئی فلسطینیوں کو بیت حانون گذرگاہ سے حراست میں لیا، اس گذرگاہ کو فلسطینیوں غزہ اور غرب اردن میں آمدو رفت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر صہیونی فوج نے اسے فلسطینیوں کے لیے ایک اذیت گاہ بنا دیا ہے، اس گذرگاہ کو عبور کرنے والے فلسطینیوں کو طرح طرح کے ہھتکنڈوں اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔

اس گذرگاہ سے گذشتہ برس 10 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا، ان میں پانچ کاروباری افراد شامل ہیں جب کہ دیگر مریض بتائے جاتے ہیں جو غزہ کی پٹی سے علاج کی غرض سے غرب اردن جا رہے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں