23.4 C
Pakistan
جمعہ, جولائی 30, 2021

پاکستان کیلئے جنرل ضیاءالحق کی خدمات

اسلام آباد (پاک صحافت) ملک کے معروف ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق کے منفی کارنامے آج تک زبان زد عام ہیں۔ اسلامائزیشن کے نام پر شدت پسندی کو فروغ دینا اور سیاسی انتقام کی خاطر بھٹو جیسے نامور سیاستدان کو تختہ دار پہ لٹکانا ان کے متعدد کارناموں میں شامل ہیں۔ بہت لوگ کہتے ہیں کہ ضیاءالحق کا دور گھٹن اور سختی کا زمانہ تھا۔ لیکن اس گھٹن اور سختی کے سبب سیاسی، عمرانی اور نفسیاتی سطح پر کیا کچھ ایکسپوز ہوا۔ اس جانب دھیان کیوں نہیں جاتا۔

مثلاً اگر ضیاءالحق کا دور نہ ہوتا تو یہ کیسے پتہ چلتا کہ کس طرح ایک فردِ واحد نظریے سے لے کر ثقافت و روایات اور افراد تک ہر شے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی عظیم الشان صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہ دور نہ آتا تو ہمیں کیسے معلوم ہوتا کہ کس طرح پارلیمانی جمہوریت کو دھاندلی سے پاک کرنے کا نعرہ لگانے والی کچھ سیاسی جماعتیں ڈکٹیٹر کی لچھے داری میں الجھ کر اپنی بچی کھچی نظریاتی عصمت بھی لٹوا سکتی ہیں۔

اور کس انداز سے ایک دو نمبر متوازی نظامِ سیاست و عدالت تخلیق کرکے آئین کے پاؤں میں گھنگرو باندھے جاتے ہیں۔ اور کس طرح عورتوں اور اقلیتوں کو جعلی نظامِ پارلیمان کی پیداوار روبوٹس کے ذریعے بنیادی حقوق سے بھی قانونی طور پر محروم کیا جاسکتا ہے۔ کس ترکیب سے سماج کو بنیاد پرستی اور ہیروئن کی لت لگوا کر ہاتھ میں کلاشنکوف تھمائی جاتی ہے۔ اور معصوم شہریوں کو دہشت گرد بنایا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف انہی کے ہاتھوں دیگر شہریوں کا قتل عام کروایا جاتا ہے۔ اگر ضیا الحق کا دور نہ آتا تو یہ کیسے معلوم ہوتا کہ کونسے اہلِ قلم فراز کے اس شعر کے اہل ہیں کہ
بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے تھے

اگر ضیاءالحق کا دور نہ آتا اور وہ اقتدار پہ قابض نہ ہوتے تو یہ کیسے معلوم ہوتا کہ جن لوگوں کو علما و مشائخ کی ٹوپی پہنائی جا رہی ہے ان میں سے کتنے مردانِ درویش ہیں اور کتنے فرقہ دسترخوانیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو معمولی اشارے پر ملک بھر میں فتنہ و فساد اور قتل عام کا بازار گرم کرتے تھے۔ خود صحافت و صحافیوں کی تربیت جس طرح سے ضیا الحق دور میں ہوئی کیا کسی اور زمانے میں ممکن تھی؟

ضیاء دور میں منطق کے شعبے میں بھی عظیم الشان کام ہوئے۔ انیس سو چوراسی میں ناجائز صدارت کو جائز کرنے کے لیے ریفرنڈم میں یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ نفاذِ شریعت چاہتے ہیں۔ اگر ہاں تو پھر جنرل محمد ضیاء الحق اگلے پانچ برس کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ہیں۔ اس پر معروف فلاسفر سیّد محمد تقی نے تبصرہ کیا کہ صاحب منطقی اعتبار سے ریفرنڈم والا سوال ایسا ہی ہے جیسے میں آپ سے پوچھوں کہ کیا آپ بینگن کو سبزی مانتے ہیں۔ اگر ہاں تو پھر آم بھی آج سے سبزی ہے۔ اور تو اور شعبہ آبکاری بھی ضیائی اثرات سے نہ بچ سکا۔ خیرپور کے ایک گوٹھ میں تکیے پر بھنگ گھوٹنے والے اللہ ڈینو ملنگ نے مجھ سے کہا۔ آؤ تمہیں مارشل لائی بوٹی پلواؤں۔ میں نے پوچھا یہ مارشل لائی بوٹی کیا بلا ہے۔ کہنے لگا سائیں زبردست پتہ ہے۔ ایک دفعہ میرے ہاتھ سے پی کر دیکھو۔ لگے گا جیسے ٹکٹکی پر بندھ گئے ہو۔

ہائے کیا وقت تھا جو بیت گیا
اب جو سوچوں تو آنکھ بھر آوے

Related Articles

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

3 + 3 =

Latest Articles