خون کے لوتھڑوں کو الٹراساؤنڈ اور نینو ذرات سے ختم کرکے روانی برقرار رکھنے میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی

خون کا جمنا

نارتھ کیرولینا (پاک صحافت) نارتھ کیرولائنا اسٹٰیٹ یونیورسٹی نے بہت ہی باریک نینو قطروں کی آواز کی لہروں پر لوتھڑوں کے اندر دھکیلنے کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔ یہ نینوقطرے ایک طرح سے منجمد خون کے اندر جاتے ہیں اور اندر سے ان لوتھڑوں کو منتشر کرکے بکھرادیتےہیں۔

تفصیلات کے مطابق نینو قطروں کے اندر چکنائی کی انتہائی چھوٹی گولیاں موجود ہیں جن میں ایک مائع ’پرفلوروکاربنز( پی ایف سی) موجود ہوتا ہے۔ یہ نینوقطرے اتنے باریک ہوتے ہیں کہ خون کے سخت ترین لوتھڑے میں بھی گھس جاتے ہیں اور اندر جاکر لوتھڑے کو پھاڑ دیتے ہیں اور وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔ اس عمل میں مائع کو الٹراساؤنڈ ڈال کر گرم کیا جاتا ہے اور وہ اپنے بہت کم نقطہ گھولاؤ کی وجہ سے گیس میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ جیسے جیسے الٹراساؤنڈ کے جھماکے پڑتے ہیں ان قطروں کی تھرتھراہٹ میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ خون کے ٹکڑوں پر ہتھوڑوں کی طرح برستےہیں۔ نہ صرف اس طرح خون کے مجموعے بکھر جاتے ہیں بلکہ وہاں اینٹی کلوٹنگ یا لوتھڑے روکنے والی دوا پہنچانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

اگلے مرحلے میں کئی ماڈلوں پر اس کی آزمائش کی گئی جن میں ادویہ بھی شامل کی گئیں۔ نصف گھنٹے تک مختلف تجربات کئے گئے۔ ایک تجربے میں خون کا لوتھڑا 40 فیصد تک کم کرنے کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ اسی طرح خردبینی بلبلوں میں اینٹی کلوٹ دوا ڈال کر لوتھڑے کو مزید چھوٹا کیا گیا اور وہ گھٹ کر اصل جسامت سے صرف 17 فیصد تک رہ گیا۔ یاد رہے کہ اس اہم کامیابی کے بعد اسے مختلف جانوروں پر آزمایا جائے گا اورپھر انسانوں کی باری آئے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں