کیا حزب اختلاف استعفوں کے ذریعے سینیٹ میں تحریک انصاف کو شکست دے پائے گی؟ جایئے اس رپورٹ میں

کیا حزب اختلاف استعفوں کے ذریعے سینیٹ میں تحریک انصاف کو شکست دے پائے گی؟ جایئے اس رپورٹ میں

ملک میں قانونی اور آئینی ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ اسمبلیوں سے اپنے ممبروں کے منصوبہ بندی کے تحت بڑے پیمانے پر استعفوں کے باوجود حزب اختلاف مارچ 2021 میں ایوان بالا سینیٹ کے انتخابات میں حکمران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اکثریت حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی، کیوں کہ قانون اور آئین ووٹنگ کے لیے ایوان میں موجود قانون سازوں کی تعداد کی کسی خاص ضرورت کے حوالے سے خاموش ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے کنوینر مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ سینیٹ انتخابات اگر موجودہ قانون سازوں کے ذریعے کرائے جاتے ہیں تو یہ جعلی ہوں گے اور ان کے اس بیان پر تجربہ کار سیاستدان اور آئینی ماہر ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی عدم موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

بدھ کے روز اپنی رہائش گاہ پر پی ڈی ایم رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ انتخابی کالج توڑنا بھی جمہوری عمل کا ایک حصہ ہے، انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں آئینی ماہرین سے مشورہ کر رہی ہیں کہ اگر اسمبلیوں سے حزب اختلاف کے قانون سازوں کے بڑے پیمانے پر استعفوں کے بعد نامکمل الیکٹورل کالج کے ذریعے سینیٹ انتخابات کرائے جاتے ہیں کہ تو ان کی قانونی حیثیت کیا ہو گی۔

قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل ایک ہزار 90 قانون سازوں میں سے 494 کا تعلق پی ڈی ایم کی جماعتوں سے ہے جس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر پی ڈی ایم کے منصوبے کے تحت تمام اسمبلیوں میں اپوزیشن کے تمام اراکین استعفے پیش کرتے ہیں تو سینیٹ اپنے انتخابی کالج کا 45فیصد گنوا دے گا، اس سے انکشاف ہوا ہے کہ سندھ کے علاوہ سینیٹ کا 50فیصد سے زیادہ الیکٹورل کالج موجود ہوگا۔

ایس ایم ظفر نے کہا کہ آئین کے تحت سینیٹ انتخابات اس کے آدھے اراکین کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہونے چاہئیں اور سینیٹ انتخابات میں کسی بھی وجہ سے صوبائی اسمبلی اراکین کی عدم موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سابق اٹارنی جنرل اشتر علی اوصاف نے بھی کہا کہ آئندہ سال مارچ میں کُل 104 اراکین میں سے آدھے یعنی 54 اراکین کی 6سالہ مدت کی تکمیل کے بعد ریٹائرمنٹ کے نتیجے میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں حزب اختلاف کے اراکین کے استعفوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

سینیٹ کے قوانین اور انتخابی طریقہ کار کے حوالے سے سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ متعلقہ صوبائی اسمبلیوں سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹرز کے انتخاب کے لیے اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ اپوزیشن اراکین کے استعفوں کے باوجود انتخابی کالج برقرار رہے گا۔

اشتر اوصاف نے کہا کہ اسمبلیوں کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے انعقاد کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت کی حد 90 دن ہے لیکن کسی بھی بحران سے بچنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (خالی نشستوں) پر جلد انتخابات کرا سکتا ہے، اس صورتحال میں ان کا خیال ہے کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے استعفیٰ دینے سے اپوزیشن کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اس طرح کا اقدام نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ تب ہی چلتا ہے جب حکومت کی اتحادی جماعتوں کے قانون ساز اپوزیشن کے ساتھ استعفے دے دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے ایک وکیل کاشف علی ملک نے کہا کہ آئین میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جس میں قانون سازوں کی کم از کم تعداد مقرر ہو اور آئین اور قانون اس معاملے پر خاموش ہیں۔

اگرچہ ایسی صورتحال میں عدالت قانون کی ترجمانی کر سکتی ہے لیکن عدلیہ نے زیادہ تر سیاسی معاملات میں مداخلت پر معذوری ظاہر کی ہے البتہ ملک میں بحران جیسے حالات کو روکنے کے لیے عدالتیں معاملہ اٹھا سکتی ہیں، انہوں نے کہا لہذا حزب اختلاف کو کسی سازگار عدالتی فیصلے کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما اور آئینی ماہر نے جب اس سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی قانونی ماہرین کی رائے کی تائید کی لیکن سوال کیا کہ ایسے سینیٹ کی اخلاقی ساکھ کیا ہو گی جس کے اراکین کو قانون ساز اپوزیشن کے بغیر منتخب کریں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں