عطا تارڑ

پاکستان مسلم لیگ ن نے الیکشن ازخود نوٹس کیس میں بنائے جانے والے بینچ پر سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد (پاک صحافت) پاکستان مسلم لیگ ن نے الیکشن ازخود نوٹس کیس میں بنائے جانے والے بینچ پر سوالات اٹھا دیے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان بار کونسل، چاروں صوبائی بار کونسلوں اور اسلام آباد بار کونسل نے کہا ہے کہ وہ ایک سٹنگ جج کے خلاف ریفرنس فائل کرنے جا رہے ہیں، تو پھر اس جج کو اس بینچ میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء تارڑ نے کہا کہ سینیئر ترین 9 ججوں کو اس بینچ میں بٹھایا جانا چاہیے تھا۔ عطا تارڑ نے کہا کہ ایک جج کے حوالے سے بھی تاثر پایا جاتا ہے کیوں کہ وہ نواز شریف کو سزا دیتے وقت مانیٹرنگ جج تھے، نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے کیس میں بھی جج تھے ، لیکن ہم سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کو ویلکم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کا اعلان کس کو کرنا ہے؟ اس کا تصفیہ ہونا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ کا حصہ ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں

حیدرآباد: 10 محرم کے جلوس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ کی شرکت

حیدرآباد (پاک صحافت) حیدرآباد میں 10 محرم کے جلوس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے