عمران خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے حوالے سے ہارون رشید کا اہم انکشاف

اسلام آباد (پاک صحافت)ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار نے کہا کہ  امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے پاکستان کی موجودہ حکومت کو ہٹانے کے کواب دیکھے جا رہے ہیں۔ تاہم ایسا ہو نہیں سکتا کیونکہ پاکستان کی آرمی امریکہ کو کچھ بھی ایسا نہیں کرنے دے گی، نہ تو پاکستان کے نوجوان اور نہ ہی عمران خان کے چاہنے والے خاموش بیٹھے رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق معروف تجزیہ کار ہارون رشید نے ٹی وی ٹاک شو میں کہا ہے کہ اپوزیشن کی ساری سیاسی جماعتوں نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپنا پورا زور لگا کر دیکھ لیا مگر عمران خان کی حکومت ٹس سے مس بھی نہیں ہوئی، اپوزیشن عمران خان کا استعفیٰ تو کیا اس کے کسی ایک وزیر کا استعفیٰ لینے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکی، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی کی اپوزیشن تو عمران خان کو اقتدار لینے کے لیے ہٹانا چاہتی ہے، مگر امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی پاکستان کی موجودہ حکومت کو ہٹائے جانے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بلاول بھٹوزرداری نے حکومت گرانے کا طریقہ بتا دیا

سینئر صحافی ہارون رشید نے اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے نو منتخب صدر جوبائیڈن کے دور حکومت میں عمران خان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا، یہ سازش تیار ہو چکی ہے اور امریکی اسٹیبلشمنٹ اس کام کے لیے تیار ہے۔ ہارون رشید نے کہا کہ اس کام کے لیے نون لیگ، مولانا فضل الرحمان اور بائیں بازو کی نام نہاد این جی اوز شامل ہے۔

پروگرام کی اینکر نے ہارون رشید سے زور دے کر سوال کیا کہ یہ آپ کیا بات کر رہے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ امریکہ عمران خان کی حکومت کو کیوں ختم کرے گا تو اس پر ہارون رشید نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں بات نہیں کررہا میں خبر دے رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ میرے پاس یہ خبر آئی ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ جوبائیڈن کے دور حکومت میں عمران خان حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے تیار ہے اور اس کا پلان بھی بنا لیا گیا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ امریکہ میں مقیم یو این او کا شخص حسین ہارون پاکستان کے اگلے متوقع وزیراعظم ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا ہو نہیں سکتا کیونکہ پاکستان کی آرمی امریکہ کو کچھ بھی ایسا نہیں کرنے دے گی، نہ تو پاکستان کے نوجوان اور نہ ہی عمران خان کے چاہنے والے خاموش بیٹھے رہیں گے۔ عمران خان ماٹھا وزیراعظم نہیں ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دے گا اور خاموشی سے بیٹھا رہے گا، بلکہ وہ اپنے حق کے لیے لڑے گااور میں بتا رہاں ہوں کہ امریکہ کا یہ پلان کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

 

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں