آئینی و سیاسی حق کو غلط استعمال نہیں کرنے دیں گے: وزیر داخلہ

آئینی و سیاسی حق کو غلط استعمال نہیں کرنے دیں گے

لاہور (پاک صحافت) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ہم  آئینی و سیاسی حق کو غلط استعمال نہیں کرنے دیں گے اور اگر اپوزیشن ایسا کرے تو جیسا کرے گی ویسا بھرے گی، آئین و قانون کا احترام کریں گے تو احترام ملے گا، آئین و قانون کو ہاتھ میں لیں گے تو آئین و قانون آپ کو ہاتھ میں لے گا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اس ملک پر رحم کھائیں، پہلے انہوں نے تفرقہ بازی کرنے کی کوشش کی اور عمران خان نے ایسا وزیرداخلہ لگایا ہے جس نے ختم نبوت کے سلسلے میں سب سے زیادہ جیل کاٹی ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت جرائم کے خاتمے کے لئے اقدامات کر رہی ہے: اعجاز شاہ

انہوں نے کہا کہ میں وزیریلوے کی حیثیت سے میں نے 4 باتیں کی تھیں، یہ استعفیٰ نہیں دیں، سینیٹ انتخابات میں حصہ لیں، ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے اور لانگ مارچ ضرور کریں گے۔شیخ رشید نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے خبروں میں بحث چھیڑنے کے لیے پنڈی جانے کا اعلان کیا، پھر انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہی آئیں گے جہاں فی الحال تو ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں البتہ 19 تاریخ کو ان کا طریقہ کار بھی دیکھا جائے گا کہ وہ اپنے آئینی سیاسی حق کو کس طرح استعمال کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت سے ہمیں اتنا ڈر نہیں ہے، کچھ اور باتیں ہیں جن کا ابھی وقت نہیں آیا، پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہے وہ کھیلتی رہے۔بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب آخری 5 اوورز کا میچ کھیلنا چاہتے ہیں اور انہیں بھی ہم سے گلہ شکایت نہیں ہو گی، ہم ان کا احترام برقرار رکھیں گے، اگر انہوں نے احترام کا مطلب غلط لیا تو پارلیمانی زبان میں بتادوں کہ اسلام آباد میں 560 مدارس میں سے صرف 92 رجسٹرڈ ہیں جہاں طلبہ رہائش پذیر ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس پی آر میں فرق ہے، کوئی کسی کو فون نہیں کررہا۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی سیاستدان نہیں چاہتا کہ انتشار و خلفشار پیدا ہو اور کوئی بات حتمی بات نہیں ہوتی، درمیان کا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، مجھے یقین ہے کہ اپوزیشن بند گلی میں جانے کے بجائے کھلے راستے کےلیے تیار ہوگی۔

نواز شریف کے پاسپورٹ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے عمران خان سے پوچھا 16 فروری کو ان کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہونی ہے کیا اس کی تجدید کرنی ہے لیکن وزیراعظم نے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ بڑا لیڈر وہی ہوتا ہے جو عوام کے بیچ میں رہے، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں لوگ نے جیلوں سے انتخاب میں نشستیں جیتیں ہیں اور کچھ کا انتقال ہوا لیکن ان کی سیاست نہیں مری،یہ چاہتے ہیں میں سکون میں رہوں عوام دکھے کھائیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں