اٹلی نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اراضی پر ناجائز کالونیاں بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیا

اٹلی نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اراضی پر ناجائز کالونیاں بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیا

اٹلی (پاک صحافت) اٹلی نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اراضی پر ناجائز کالونیاں بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیتے ہوئے اس جارحانہ اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

اٹلی کی حکومت نے فلسطینی علاقے غرب اردن میں یہودی کالونیوں میں‌توسیع کے اسرائیلی اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کالونیوں میں توسیع کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور دو ریاستی حل کی کوششوں ‌کو تباہ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

اطالوی وزارت خارجہ کی طرف سے منگل کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے مزید 800 گھروں کی تعمیر کا اعلان باعث تشویش اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام اور دو ریاستی حل کی مساعی کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ روم نے 17 نومبر 2020ء کو اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ غرب اردن میں‌یہودی کالونیوں میں توسیع  کے فیصلوں پر نظرثانی کرے۔ آج ایک بار پھر ہم اپنایہ مطالبہ دہراتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اٹلی غرب اردن کے علاقے میں یہودی کالونیوں میں توسیع کو بین الاقوامی قوانین کی توہین اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع بین الاقوامی اصولوں اور اقوام متحدہ کی مسلمہ قراردادوں کی بھی نفی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اٹلی اسرائیل پر فلسطین میں یک طرفہ اقدامات کی پرزور مخالفت کرتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ غرب اردن کے علاقوں میں ‌یہودی آبادیوں میں توسیع سے فریقین کے درمیان امن بات چیت کی بحالی کے لیے فضا سازگار ہونے کے بجائے مزید خراب ہوگی۔

خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کے لیے 800 گھروں کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں