مسلمانوں کے خلاف بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب، مسلمان پائلٹ کو نریندر مودی کی مخالفت کرنے پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا

مسلمانوں کے خلاف بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب، مسلمان پائلٹ کو نریندر مودی کی مخالفت کرنے پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا

نئی دہلی (پاک صحافت)  بھارت میں اگرچہ مسلمانوں کے خلاف آئے دن نفرت اور شدت انگیزی بڑھ رہی ہے لیکن مسلمانوں کے خلاف بھارت کا مکروہ چہرہ اس وقت بے نقاب ہوگیا جب بھارت کی فضائی کمپنی گو ائر نے وزیراعظم مودی کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر اپنے سینئر پائلٹ کو ملازمت سے برطرف کردیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی فضائی کمپنی گو ائر نے اپنے مسلمان پائلٹ آصف خان کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

گو ائر کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی نے اپنے ملازمین کے سوشل میڈیا سے متعلق بھی ضابطے بنائے ہیں۔ برطرف پائلٹ اسی ضابطے کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے تھے، پائلٹ آصف خان نے وزیراعظم کے خلاف اپنے تبصرے پر معافی مانگتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ میں وزیراعظم اور دیگر جارحانہ ٹوئٹس کے بارے میں معذرت خواہ ہوں جس سے کسی سے بھی وابستہ افراد کے جذبات مجروح ہوسکتے ہیں، پائلٹ آصف خان کی ٹوئٹ پر کی گئی معذرت کے باوجود گوائر نے ملازمت سے برخاستگی کے فیصلے کو واپس نہیں لیا۔

دوسری جانب بھارتی پولیس نے دارالحکومت نئی دہلی کے اورنگ زیب روڈ کے سائن بورڈ پر سیاہی ملنے اور ہندو گرو تیغ بہادر کا پوسٹر لگانے کے الزام میں ہفتے کے روز 11 ہندوانتہاپسندوں کو حراست میں لے لیا، ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ انہیں صبح اطلاع ملی تھی کہ اورنگ زیب روڈ اور تغلق روڈ پر کچھ لوگ جمع ہوگئے ہیں۔

موقع پر پہنچنے کے بعد پولیس اہلکاروں کو معلوم ہوا کہ انورادھا بھارگو کی سربراہی میں 11 افراد نے اورنگ زیب روڈ کے سائن بورڈ پر سیاہی مل دی ہے اور وہ اس پر گرو تیغ بہادر لین کا پوسٹر چسپاں کر رہے ہیں۔ اہلکار نے بتایا کہ سب کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور تغلق روڈ تھانے لے جایا گیا ہے، انورادھا بھارگو کا تعلق ہریانہ کے کرنال سے ہے اور وہ پیشے سے وکیل ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں