کابل دہشت گردی کے واقعے میں زخمی ہونے والوں کی مدد کے لیے تیار ہیں: ایران

افغانستان

پاک صحافت کاظمی قمی کا کہنا ہے کہ وہ کابل میں دہشت گردی کے واقعے کے زخمیوں کی مدد کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

افغانستان کے لیے ایران کے خصوصی ایلچی حسن کاظمی قمی نے جمعے کے روز کہا کہ ہم کابل میں ایک تعلیمی مرکز پر دہشت گردانہ حملے میں زخمی ہونے والوں کی مدد کر سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بات طالبان حکومت کے وزیر صحت قلندر عباد کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں کہی۔ ایران کے خصوصی ایلچی نے ہفتے کے روز کابل کے ایک تعلیمی ادارے میں ہونے والے دہشت گردانہ دھماکے کی شدید مذمت کی۔

جمعے کی صبح افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک تعلیمی ادارے پر خودکش حملہ کیا گیا۔ حملہ اس وقت ہوا جب یونیورسٹی میں داخلے کے لیے مارک ٹیسٹ کا امتحان جاری تھا۔ اس حملے میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر طلباء تھے۔ زخمیوں کی تعداد 40 بتائی گئی۔ اس دہشت گردانہ حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

افغانستان میں حالیہ دنوں میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو بھی کابل میں وزیر اکبر خان کے علاقے میں ایک مسجد کے قریب دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

ماضی میں کئی حملے ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری دہشت گرد گروپ داعش نے قبول کی ہے۔ افغانستان میں حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دعووں کے برعکس طالبان ملک میں امن و سلامتی برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں