افغانستان میں بھوک مری، سعودی عرب میں ہر سال 10 ارب ڈالر کی خوراک ضائع

افغانستان میں بھکمری

کابل (پاک صحافت) سعودی عرب میں ہر سال اربوں ڈالر مالیت کی خوراک ضائع ہوتی ہے جب کہ افغانستان کو خوراک کی کمی کے باعث انسانی بحران کا سامنا ہے۔

ایک مسلم ملک غذائی قلت کا شکار ہے اور دوسرا ہر سال 10 ارب ڈالر یعنی تقریباً 74 ارب روپے ضائع ہو رہے ہیں۔

سعودی عرب کی نیشنل فوڈ آرگنائزیشن نے اطلاع دی ہے کہ ملک میں ہر سال 10 بلین ڈالر مالیت کی غذائی اشیاء تباہ ہو جاتی ہیں۔ اس تنظیم کے مطابق سعودی عرب میں ہر سال تقریباً 4.6 ملین ٹن غذائی اشیاء تلف ہو جاتی ہیں۔

سعودی عرب کی نیشنل فوڈ آرگنائزیشن نے بھی بتایا ہے کہ ملک میں ہر سال 917 ٹن آٹا اور روٹی، 557 ٹن چاول اور 22000 ٹن گوشت ضائع ہو جاتا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس طرح سعودی عرب کا ہر شہری ہر سال تقریباً 184 کلو گرام خوراک خراب کر دیتا ہے۔

اکانومسٹ ویب سائٹ کے مطابق سال 2019 میں دنیا کے 25 ممالک میں غذائی اشیاء کی تباہی کے حوالے سے تیار کی گئی فہرست میں سعودی عرب سرفہرست تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں برسوں سے کم و بیش خرچ کرنے کا رجحان رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہاں کھانے پینے کی اشیاء بھی بڑے پیمانے پر ضائع کی جاتی ہیں۔ شادیوں، پارٹیوں یا دیگر تقریبات میں کھانے پینے کی اشیاء کا بہت زیادہ ضیاع ہوتا ہے جو سعودی عرب میں ایک عام سی بات ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں