امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کو ظالمانہ قرار دے دیا

امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کو ظالمانہ قرار دے دیا

واشنگٹن (پاک صحافت) امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے میکسیکن ہم منصب کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے  ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کو ظالنہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا مائیگریشن کی وجوہات سے متعلق پالیسیز کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ انتطامیہ کے امیگریشن کے حوالے سے ظالمانہ نقطہ نظر کو پلٹنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق میسکین صدر اندرس مینوئیل پیز کے ساتھ کال پر بات کرتے ہوئے میں جو بائیڈن نے امیگریشن کے لیے اپنے نئے قانونی راستے اور پناہ کے خواہشمندوں کی درخواست کا عمل بہتر بنانے کا خاکہ پیش کیا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے کال سے متعلق جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ‘گزشتہ دور حکومت کی ظالمانہ امیگریشن پالیسیوں کو پلٹنا ترجیحات میں شامل ہے، بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نےبے قاعدہ امیگریشن کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جو بائیڈن کے امیگریشن سے متعلق اصلاحاتی منصوبے میں میکسیکو کا اہم کردار ہے، قبل ازیں رواں ماہ کے آغاز میں میکسیکو نے وسطی امریکا میں شمالی امریکا جانے والے پناہ گزینوں کے ایک بڑے قافلے کو روکنے کے لیے تعاون کیا تھا۔

میکسیکو کی وزارت خارجہ کا بھی کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی سرزمین میں داخل ہونے والے افراد کے بہتر صحت پروٹوکولز کے لیے جو بائیڈن کے دستخط کردہ کووِڈ 19 حکم نامے کے سلسلے میں واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کا آغاز کردیا ہے۔

کال کے بعد میکسیکن صدر نے ٹوئٹر پر ایک پیغام پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ کام خوشگوار اور احترام سے بھرپور تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز اس بات کی جانب اشارہ کررہی ہے کہ تعلقات ہمارے لوگوں اور اقوام کے لیے اچھے ہوں گے۔

بہر حال جو بائیڈن کی حلف برداری تقریب ایسے وقت میں ہوئی کہ جب میکسیکو کے سابق وزیر دفاع کے حوالے سے تفیش پر تناؤ پایا جارہا تھا تاہم یہ تحقیقات اب ختم کردی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ جو بائیڈن کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ کا بنیادی مرکز قانونی اور غیر قانونی امیگریشن روکنا تھا۔

قبل ازیں جوبائیڈن نے ایک ایسے بل کے لیے ابتدائی کوششیں کیں جو امریکا میں مقیم تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد کو شہریت دینے کی راہ ہموار کرے گا، حالانکہ کانگریس میں ان کے اتحادیوں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ انتہائی مشکل کام ہوگا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں