سال 2020ء، فلسطینی قوم کے لیئے انتہائی مایوس کن سال۔۔۔

سال 2020ء، فلسطینی قوم کے لیئے انتہائی مایوس کن سال۔۔۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت اپنا بوریا بستر گول کرنے کی تیاریوں میں ہیں اور وہ وائٹ ہاؤس میں چند دن کے مہمان رہ گئے ہیں مگر انہوں ‌نے اپنے چار سالہ دور اقتدار میں امریکا میں ایک ایسی سیاسی میراث چھوڑی ہے جسے تاریخی طور پر فلسطینی قوم کے لیے انتہائی مایوس کن اور صہیونیوں کے لیے بہت زیادہ حوصلہ افزا سمجھی جاتی ہے۔

ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے نہ صرف اسرائیل کی مطلق حمایت اور مدد کی بلکہ سال 2020ء میں امریکی ریاست نے القدس پر اسرائیلی قبضے، یہودی آباد کاری کی حمایت اور فلسطین کے حوالے سے امریکی موقف میں کمزوری واضح طور پر سامنے آئی۔

اگرچہ امریکا میں اقتدار کی تبدیلی اور صدارتی انتخابات میں جوبائیڈن کی کامیابی سے فلسطینیوں کو حالات کی بہتری کی امید لگی ہے مگر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا امریکا کی نئی انتظامیہ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ میں پھیلائے گند کو صاف کر سکے گی یا نہیں با وہ بھی ٹرمپ ہی کے ٹریک پر چلے گی۔ امریکی صدر نے فلسطینی اتھارٹی اور فلسطین میں کام کرنے والے اداروں کی مالی امداد بند کر دی تھی اور فلسطینیوں ‌کے حوالے سے موقف کو عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی طرف موڑ دیا تھا۔

سابق صدر باراک اوباما کی حکومت کے آخری ایام میں سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے فلسطینیوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ٹرمپ کی طرف سے کیے گئے فیصلوں پر صبر سے کام لیں اور ان کے ساتھ تصادم سے گریز کی پالیسی اختیار کریں، انہوں ‌نے وعدہ کیا تھا کہ چار سال کے بعد ڈیموکریٹس ایک پھر اقتدار میں آئیں گے۔

جان کیری نے کہا تھا کہ ٹرمپ کا عہد غیر متوقع اور حیران کن فیصلوں سے بھرپور ہوگا، ان کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کو دارالحکومت تسلیم کیا اور امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ‌ کا تنازع حل کرنے کے لیے صدی کی ڈیل کا منصوبہ پیش کیا اور اسرائیل کی مطلق حمایت اور مدد جاری رکھی، اپنے اقتدار کے آخری مہینوں‌ میں ٹرمپ نے اسرائیل کو کئی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کا تحفہ دیا، یہ سب اس لیے ممکن ہوا کیونکہ امریکا میں اقتدار کے تخت پر ٹرمپ برجمان تھا۔

فلسطینی تجزیہ نگار حمد رفیق عوض کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے فلسطین اور تنازع فلسطین کے حوالے سے امریکا کے تمام تاریخی اصولوں کو پامال کیا، حتیٰ کہ ٹرمپ نے تمام عالمی قرار دادوں، سلامتی کونسل کے فیصلوں اور اوسلو معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں ‌نے کہا کہ ٹرمپ کے اقتدار کے عرصے میں اسرائیل میں بھی انتہا پسند ہی برسر اقتدار رہے، اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو ایک نیا حوصلہ ملا اور انہوں‌نے فلسطینیوں کے ساتھ طے پائے معاہدوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی،انہوں نے غزہ کا محاصرہ مزید سخت کیا، اونروا کی امداد بند کی اور فلسطینی اتھارٹی اور فلسطینی قوم کو دی جانے والی امداد بند کر دی، ٹرمپ نے فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والے بہت سے غیرملکی اداروں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا۔

تجزیہ نگار جمال عمرو کا کہنا تھا کہ سال 2020ء فلسطینی قوم کے لیے غم اور دکھوں کا سال ہے، بہت سے دیگر مسائل کی طرح فلسطینی قوم کو کورونا کے بحران نے بھی متاثر کیا،  ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد فلسطینی قوم کا مستقبل مزید مجھول ہوگیا اور دوسری طرف امریکی انتظامیہ کی طرف سے فلسطین میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کی ہر ممکن حمایت جاری رکھی۔

قضیہ فلسطین کو تباہ کرنے کی ہمہ جہت سازشیں کی گئیں۔ اونروا کی امداد بند کی گئی۔ حق واپسی کی نفی کی گئی، فلسطینی ریاست کی حدود کے تعین کے مطالبات نظرانداز کیے گئے اور القدس کو یہودیانے اور مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کے تسلط میں دینے کے حربوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔

ماضی میں عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کے حوالے سے تقریبا مناسب موقف کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، عرب اقوام آج بھی اسرائیل کو عرب دنیا میں ایک غیر قانونی ریاست قرار دیتے اور اس کے ناجائز ہونے پر اصرار کرتے ہیں، اسرائیل کو ایک غاصب ریاست قرار دیا جاتا ہے جس نے فلسطینی قوم کواس کے وطن اور گھروں سے نکال کر وہاں پر دنیا کے دوسرے ملکوں سے لا کر یہودیوں کو بسایا۔

مگر سال 2020ء اس اعتبار سے ایک خطرناک سال ہے کیونکہ اس سال عرب ممالک کے اسرائیل کے حوالے سے موقف میں غیر معمولی اور غیر مسبوق تبدیلی سامنے آئی، اب تک چار مزید عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں، اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے والے عرب ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش شامل ہیں۔

تجزیہ نگار عوض نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 2020ء میں عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان دوستی کی مہم چلائی، اسرائیل کے ناپاک اور غیرقانونی وجود کو سند جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، اسرائیل کے ساتھ طے پائے معاہدوں کو بھی پامال کیا گیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ عرب ملکوں‌کی دوستی نے سنہ 2002ء میں عرب ممالک کی طرف سے پیش کردہ امن فارمولے کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔

امریکا کے سنچری ڈیل منصوبے نے فلسطین میں یہودی آباد کاری کے خلاف عرب ممالک کے اصولی موقف کو بھی تبدیل کردیا اور عرب ممالک فلسطین میں غیرقانونی یہودی آباد کاری، فلسطینیوں پر مظالم اور جارحانہ اقدامات پر خاموشی تماشائی بن گئے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں