وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے اہم خطاب، 10 نکاتی ایجنڈا پیش کردیا

وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے اہم خطاب، 10 نکاتی ایجنڈا پیش کردیا

وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے فوری کارروائی کے لئے 10 نکاتی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے ان اقدامات کی نشاندہی کی جو کووڈ-19 کو شکست دینے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اس فہرست میں پہلی چیز کم آمدنی والے اور سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کے لیے وبائی بیماری کے خاتمے تک قرض معطلی کی درخواست ہے۔

دوسری تجویز یہ دی کہ کم ترقی یافتہ ممالک کے قرضوں کو منسوخ کردیا جائے کیونکہ وہ اب اپنے قرضوں کی ادائیگی کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

ایجنڈے میں شامل دیگر نکات میں متفقہ کثیر جہتی فریم ورک کے تحت دوسرے ترقی پذیر ممالک کے عوامی شعبے کے قرض کی تنظیم نو، خصوصی حقوق کے تحت 500ارب ڈالر کی تقسیم، کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں کے ذریعے کم آمدنی والے ممالک میں رعایتی مالی اعانت میں توسیع اور نئی لیکویڈیٹی اور پائیدار سہولت کا قیام ہے جو کم لاگت پر قلیل مدت کے لیے قرض فراہم کر سکے۔

ایجنڈے میں دولت مند ممالک کو اپنی سرکاری ترقیاتی امداد کے وعدوں کا 0.7 فیصد پورا کرنے اور پائیدار انفراسٹرکچر میں مطلوبہ 15کھرب ڈالر سالانہ سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کی یاد دہانی بھی شامل ہے۔

وزیر اعظم نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی عمل کے سلسلے میں ہر سال 100ارب ڈالر کے منظور شدہ ہدف کے حصول میں مدد کریں۔

انہوں نے ترقی پذیر ممالک سے غیرملکی ٹیکس کی پناہ گاہوں کے حامل بڑے ممالک میں غیر قانونی مالی اخراج روکنے کے لیے فوری اقدام اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔

عمران خان نے بدعنوان سیاستدانوں اور مجرموں کے چوری شدہ اثاثوں کو فوری طور پر ان ممالک کو واپس کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔

جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کووڈ-19 کے وبائی امراض کے بارے میں ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا جس کی تجویز غیر منسلک تحریک کے چیئرمین اور آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے دی تھی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم خان نے کووڈ-19 کی وبائی بیماری کو دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے سنگین عالمی بحران قرار دیا۔

دو روزہ اجتماع کا افتتاح کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کے صدر ولکان بوزکیر نے کہا کہ آج حساب کتاب کا ایک واجب الادا اور انتہائی ضروری لمحہ ہے، ہم میں سے کسی نے پچھلے سال اس موقع پر تصور بھی نہیں کیا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب اس طرح کے بحرانوں کے عالمی ردعمل کی بحالی کا وقت آگیا ہے، اب ہم مضبوط بحالی کے عمل سے گزر رہے ہیں تو ہمیں تبدیلی کے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں