اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد متحدہ عرب امارات پر شدید سائبر حملے، مالی شعبے کو نشانہ بنایا گیا

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد متحدہ عرب امارات پر شدید سائبر حملے، مالی شعبے کو نشانہ بنایا گیا

متحدہ عرب امارات کے سائبر سیکیورٹی کے سربراہ نے اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم ہونے کے بعد شدید سائبر حملوں کی زد میں ہے۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سائبر سیکیورٹی کے سربراہ محمد حمد الکویتی نے دبئی میں ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ ‘اسرائیل سے ہمارے باقاعدہ تعلقات کے قیام کے بعد متحدہ عرب امارات کے مخالف کارکنوں نے زبردست حملے کیے’۔

ان کا کہنا تھا کہ سائبر حملوں میں مالی شعبے کو نشانہ بنایا گیا تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ آیا کوئی حملہ کامیاب ہوا یا نہیں اور پھر حملہ آور کون تھے۔

محمد حمد الکویتی نے بتایا کہ کوروناوائرس کی وبا کے بعد متحدہ عرب امارات پر سائبر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی حملے خطے میں روایتی طور پر ایران سے تعلق رکھتے ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے پیچھے کون ہیں۔

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے رواں برس اگست میں اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے اور دہائیوں سے جاری عرب ممالک کی پالیسیوں کے برعکس اپنا فیصلہ سنایا تھا جبکہ فلسطینیوں سمیت دیگر مسلم ممالک اور اداروں کی جانب سے شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ تعلقات کو معمول پر لائیں گے جبکہ حکومتی سطح پر بینکنگ، کاروباری معاہدوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے خلاف طویل مدت سے جاری بائیکاٹ کو ختم کریں گے۔

بعدازاں قریبی ملک بحرین نے بھی 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے یو اے ای کے ساتھ مل کر معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین وہ تیسرے اور چوتھے عرب ممالک ہیں جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں جبکہ مصر اور اردن بالترتیب 1979 اور 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدات پر دستخط کرچکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے11 ستمبر کو اسرائیل اور بحرین کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور بحرین نے متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

امریکی صدر نے اسے تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل اور بحرین صحیح معنوں میں سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔

انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سفارتخانوں اور سفارتکاروں کا تبادلہ کریں گے، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز ہو گا اور تعلیم، صحت، کاروبار، ٹیکنالوجی، سیکیورٹی اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا آغاز کریں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں