مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناءاللہ نے حکومت اور انتطامیہ کو شدید دھمکی دے دی

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناءاللہ نے حکومت اور انتطامیہ کو شدید دھمکی دے دی

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ عمران خان نیازی کی حکومت مقدمات درج کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کررہی ہے، یہ جتنے چاہیں مقدمات درج کرلیں لیکن اگر 13 دسمبر سے پہلے گرفتاریوں کی طرف بڑھے تو اس کے نتائج بہت گہرے ہوں گے۔

فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ نے کہا کہ 30 نومبر کو ڈپٹی کمشنر نے جو کام کیا وہ ایک سول آفیسر کے شایان شان نہیں تھا، انہوں نے لوگوں کو بے جا پکڑا، مقدمات درج کروائے اور 30 دن کے لیے نظر بند کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ ہائی کورٹ سے ان کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے ہیں لہٰذا میرا ڈپٹی کمشنر سے یہ مطالبہ ہے کہ ان لوگوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور آپ ایک سول آفیسر کے طور پر اپنا کام کریں، حکومتیں آنی جانی چیز ہیں، کسی حکومت کی وفاداری میں آپ کو اتنا آگے نہیں بڑھنا چاہیے کہ آپ ظلم کریں اور بے جا مقدمات درج کریں۔

پنجاب کے سابق وزیر قانون نے کہا کہ دو ایف آئی آر کی کاپیاں میرے پاس موجود ہیں جو انہوں نے مختلف لوگوں کے خلاف اس لیے درج کی ہیں کہ وہ پبلسٹی کررہے تھے تاکہ بہت زیادہ لوگ جمع ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ‘پنڈی کا شیطان’ کہتا ہے کہ ان کے جلسوں میں لوگ نہیں آتے اور دوسری طرف ‘شبلی فراڈ’ فرماتے ہیں کہ عوام نے بائیکاٹ کردیا ہے اور تیسری طرف یہ اندازے سے مقدمے درج کررہے ہیں کہ یہ پبلسٹی ہو گی تو یہاں بہت زیادہ تعداد میں لوگ آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس رویے کی ذمے داری انتظامیہ پر تو نہیں ہے، یہ بنی گالا میں بیٹھے لوگ ساری حرکتیں کررہے اور کروا رہے ہیں لیکن انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ غیرجانبدار رہے اور وہ کوئی ایسا عمل نہ کرے جس کی وجہ سے حالات خرابی یا تصادم کی طرف جائیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملتان میں اگر انتظامیہ نے کریک ڈاؤن کیا تو جلسہ ناکام تو نہیں ہوا بلکہ پورے ملتان میں جلسہ ہوا اور شاہ رکن عالم انٹرچینج سے ملتان گھنٹہ گھر چوک تک 13 کلومیٹر کا راستہ بنتا ہے اور سارے شہر میں جلسہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملتان میں جب لوگ صبح نکلے تو انتظامیہ غائب تھی بلکہ پورے شہر میں کوئی ایک سپاہی نہیں نظر آیا، ٹریفک پولیس والے بھی ڈیوٹیاں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، اگر انہوں نے یہی حالات لاہور میں بھی پیدا کرنے ہیں تو پھر ان کی مرضی ہے، کل ہمیں کوئی دوش نہ دے۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اگر انہوں نے یہ حالات لاہور میں بھی پیدا کیے تو اس سے تصادم اور کوئی حادثہ بھی ہو سکتا ہے، ہماری درخواست ہے کہ یہ اس طرف آگے نہ بڑھے اور آگے بڑھنا ہے تو اس کی ذمے داری ان پر ہو گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران نیازی حکومت مقدمات درج کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کررہی ہے تو یہ مقدمات جتنے چاہیں شوق سے درج کر لیں لیکن اگر یہ 13 دسمبر سے پہلے گرفتاریوں کی طرف بڑھے تو اس کے نتائج بہت گہرے ہوں گے، ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اس طرح کی صورتحال پیدا نہیں کرنی چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے کہا کہ نواز شریف علاج کی غرض سے لندن میں رکے ہوئے ہیں، جیسے ہی علاج مکمل ہو گا تو واپس آئیں گے، باقی پارٹی کا ان کو مشورہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنا علاج مکمل کروائیں بلکہ اس نااہل اور نالائق ٹولے کا بھی علاج مکمل کر کے واپس آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وطن واپسی کا فیصلہ نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) نے کرنا ہے، اس فیصلے کے لیے ہمیں کسی نے مشورہ دیا ہے نہ ہمیں کسی کے مشورے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو جذبہ خیرسگالی کے تحت رہا نہیں کیا گیا، پورے ملک سے لوگوں نے ان سے تعزیت کے لیے آنا تھا لیکن پہلے تو حکومت کے ترجمانوں نے گھٹیا بکواس کی اور اس معاملے پر انسانیت سوز رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف پانچ دن کے لیے پیرول پر رہا کیا جس سے ہم بالکل بھی مطمئن نہیں ہیں۔

اسمبلی سے استعفیٰ دینے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 8 دسمبر کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے، اس اجلاس سے متعلق کل مریم نواز کی شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے جس میں بقیہ پارٹی قیادت بھی موجود تھی، مسلم لیگ (ن) نے اپنا مؤقف واضح کر لیا ہے اور اب دیکھنا ہے کہ اس دن کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ اس دن 13 دسمبر کے بعد کون سے مرحلے پر اتفاق ہوتا ہے، ایک ریلیاں ہو سکتی ہیں، فیصلہ کن لانگ مارچ کا آپشن ہے، تیسرا اس میں استعفوں کا آپشن ہے اور اب پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس فیصلہ کرے گا کہ کون سا آپشن پہلے اور کون سا بعد میں استعمال کرنا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں