موجودہ صورتحال میں تعلیمی اداروں کا وقت پر کھلنا ممکن نہیں: شفقت محمود

موجودہ صورتحال میں تعلیمی اداروں کا وقت پر کھلنا ممکن نہیں

اسلام آباد (پاک صحافت) کورونا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی وزیر شفقت محمود کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو مقررہ وقت پر کھولنا فی الحال ناممکن ہے حتمی فیصلہ آئندہ کیا جائے گا۔ گرمیوں کی چھٹیوں کا دورانیہ کم کیا جائے گا اور امتحان کے بغیر کسی کو پاس نہیں کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ کورونا کی دوسری لہر میں اسکول مجبوری میں بند کرنا پڑے۔ہمارے بروقت اقدام کی وجہ سے کورونا کیسز میں اضافہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو اسکول نہ جانے پر مجھے تشویش ہے۔تمام صوبوں کے وزرائے اجلاس ہے جس میں موجودہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل میں اسکول کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا اب بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔موجودہ صورتحال میں اسکولوں کا وقت پر کھلنا ممکن نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: ملک بھرمیں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ پرسوں کیا جائے گا

ہم غور کر رہے ہیں کہ اسکول کب اور کیسے کھولے جائیں کیونکہ سب سے زیادہ پرائمری اسکول کے بچے متاثرہوئے ہیں۔ہماری کوشش بھی یہی ہو گی کہ پرائمری اسکول پہلے کھولنے کی کوشش کریں۔سکولوں کو مرحلہ وار کھولنے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے جس عمل کیا گیا تو سب سے پہلے پرائمری اسکولوں کو ہی کھولا جائے گا۔اس بار امتحانات کے بغیر کسی طالب علم کو پاس نہیں کیا جائے گا۔

امتحانات کا انعقاد ہرصورت کیا جائے گا۔اسکولوں کی چھٹیاں ہونے پر سلیبس کو کم کرنے کا حامی نہیں ہوں۔ہماری کوشش ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں کو کم کیا جائے تاکہ کورس مکمل ہو سکے۔واضح رہے کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے 25 جنوری سے مرحلہ وار کھولے جانے کا امکان ہے تاہم حتمی فیصلہ(آج) پیر 4جنوری کو بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں ہوگا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ملک میں تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق تمام فیصلے ہیلتھ ایڈوائزری کی بنیاد پر لیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر قیادت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے تعلیم شریک ہوں گے.اس ضمن میں فیڈرل ایجوکیشن سے تعلق رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے تعلیمی ادارے 3 مرحلے میں کھولنے کی تجویز دی ہے۔

 

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں