سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار میں تبدیلی تسلیم نہیں: سندھ حکومت

سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار میں تبدیلی تسلیم نہیں

کراچی(پاک صحافت) ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ حکومت نے سیینٹ الیکشن  کے طریقہ کار میں تبدیلی کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے اور اس طریقہ کار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اوپن بیلٹ آئین کے منافی اور اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے کیونکہ آئین سینیٹ الیکشن سے متعلق واضح ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار میں تبدیلی کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، صدارتی ریفرنس میں صوبائی حکومت کا جواب آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں جمع کرایا جائے گا۔ صدارتی ریفرنس میں سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری کے بجائے اوپن بیلٹ سے کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے تجویز طلب کی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت جرائم کے خاتمے کے لئے اقدامات کر رہی ہے: اعجاز شاہ

اس حوالے سے پنجاب اور خیبرپختونخوا نے اوپن بیلٹ کے حق میں اپنے جوابات جمع کرا دیئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مشیر قانون اور ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے صوبائی حکومت کی طرف سے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی تصدیق کردی ہے۔

ترجمان سندھ حکومت نے مزید کہا کہ صدارتی ریفرنس پر سندھ حکومت کا جواب آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں جمع کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت جواب میں موقف اپنائے گی کہ اوپن بیلٹ آئین کے منافی اور اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے کیونکہ آئین سینیٹ الیکشن سے متعلق واضح ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت کے جواب میں آئین کی دفعات 226، آرٹیکل 63 اے کا بھی حوالہ شامل ہے، آرٹیکل 226 میں انتخابی طریقہ کار واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپن بیلٹ کی تجویز آئین کی روح کے منافی ہے، سندھ حکومت ٹھوس مؤقف آئین کی شقوں کے ساتھ دے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں