حکومت سوشل میڈیا کے قواعد پر نظرثانی کے لئے تیار

حکومت سوشل میڈیا کے قواعد پر نظرثانی کے لئے تیار

اسلام آباد (پاک صحافت) اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ (آئی ایچ سی) میں ایک سماعت کے دوران بتایا کہ حکومت گذشتہ سال متعارف کرائے گئے سوشل میڈیا کے نئے قواعد پر نظرثانی کرنے کے لئے تیار ہے اور اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے گی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نومبر میں حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے سوشل میڈیا قوانین کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی درخواست کی سماعت کر رہے تھے۔الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کے تحت غیر قانونی آن لائن کے قواعد 2020 کو ہٹانے اور مسدود کرنے کے ذریعے متعارف کروائے گئے نئے قواعد کو بہت سے اسٹیک ہولڈرز جیسے انٹرنیٹ سروس پرووائڈر آف پاکستان (آئی ایس پی اے سی) نے فوری طور پر مسترد کردیا تھا اور انھیں "سخت گیر” ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت نے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے  کے لیے حکمت عملی تیار کر لی

سماعت کے دوران اے جی پی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت نے سوشل میڈیا ریگولیشن قوانین پر نظر ثانی کی حمایت کی ہے اوراسٹیک ہولڈرز اور درخواست دہندگان سے مشاورت کے بعد جائزہ لیا جائے گا۔جسٹس من اللہ نے کہا کہ سوشل میڈیا قوانین کو نافذ کرنے کے معاملے میں آئین کے آرٹیکل 19 (آزادی اظہار) اور آرٹیکل 19 اے (معلومات کا حق) شامل ہے جو "بنیادی حقوق سے متعلق ہے”۔انہوں نے کہا کہ بظاہر سوشل میڈیا قوانین کی تشکیل کے دوران متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔

پاکستان بار کونسل اور پی ایف یو جے اس معاملے میں اہم اسٹیک ہولڈر ہیں۔اس کے لئے اے جی پی خان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ درخواست گزاروں سے مشاورت کی جائے گی اور حکومت "مکمل پابندی” لگانے کے لئے نہیں دیکھ رہی اور نہ ہی کسی بھی پلیٹ فارم کو بند کرنے پر غور کررہی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں