براڈشیٹ کیس میں پاکستان کے خلاف فیصلے جاری

راڈشیٹ کیس میں پاکستان کے خلاف فیصلے جاری

اسلام آباد (پاک صحافت) وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب مرزا شہزاد اکبر نے براڈ شیٹ کیس میں پاکستان کے خلاف فیصلوں کی کاپیاں صحافیوں کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر کیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم  کے مطابق "احتساب شفافیت کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اکبر نے کہا کہ حکومت اپنے مستقل اور اصولی مؤقف کے مطابق براڈشیٹ کیس میں تمام متعلقہ دستاویزات ، فیصلے اور ایوارڈز کو عوامی ڈومین میں مہیا کررہی ہے کہ احتساب کے عمل کے لئے شفافیت اہم ہے۔

مزید پڑھیں: براڈ شیٹ پر پی ڈی ایم اور حکومت کامیاب لیکن بائیس کروڑ عوام ناکام ہوگئے، سراج الحق

انہوں نے کہا کہ دو فیصلے عوام کے سامنے دیئے جارہے ہیں ، 2016 میں لیبلٹی ایوارڈ کے لئے فیصلہ اور 2018 میں کوانٹم ایوارڈ کا فیصلہ۔ پہلی بار تصدیق کی گئی ہے  کہ حکومت براڈشیٹ کی  ادائیگی کی ذمہ دار ہے اور اس ذمہ داری کی اصل رقم کا تعین کیاہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر حکومت نے براڈشیٹ کے وکیلوں سے ان دستاویزات کو عام کرنے پر تحریری رضامندی حاصل کرنے کے لئے رابطہ کیا تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس اقدام پر "کوئی تحفظات” نہیں ہیں۔

اکبر نے کوانٹم ایوارڈ کی تفصیلات کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کو براڈشیٹ کو 21.5 ملین ڈالر کیوں دینے تھے۔وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ اس رقم سے "ماضی کے این آر اوز (قومی مصالحتی آرڈیننس) کی قیمت کی نمائندگی ہوتی ہے اور آپ (پاکستان کے عوام) کو یہ برداشت کرنا پڑتا ہے”۔

انہوں نے کہا کہ براڈشیٹ کو دیئے گئے 21.5 ملین ڈالر میں سے ، 20.5 ملین ڈالر شریف فیملی کی وجہ سے ادا کیے گئے تھے – اس میں سے 1.5 ملین ڈالر ایوین فیلڈ اپارٹمنٹس اور 19 لاکھ ڈالر نواز شریف کے اثاثوں کے خلاف ادا کیے گئے تھے۔

 

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں