یمن کی انصار اللہ تحریک کے سربراہ کی عاشور کی تقریر سے تھلکہ

عبد الملک حوثی

صنعا {پاک صحافت} یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبدالمالک الحوثی نے یوم عاشور کے موقع پر اپنی تقریر میں چار اہم نکات بیان کرکے تہلکہ مچا دیا ہے۔

سید عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ دشمن مذہبی موضوعات کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس سے قبل ایران کے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بھی اپنی تقریر میں اس نکتے کو اٹھایا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ قوتیں ایسی ہیں جو مذہبی مضامین اور مذہبی گفتگو کو ان کی اصل شکل سے ہٹا کر کسی اور شکل میں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مذہبی موضوعات کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل اور زمینی حقیقت کو بھی بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ دشمن کی نرم جنگ کا حصہ ہے۔

دشمن جانتے ہیں کہ اسلامی معاشرے کو متحد کرنے میں مذہب بہت موثر کردار ادا کرتا ہے، اس لیے وہ مذہب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سید عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ دشمن مسلمانوں کو گمراہ کرکے معاشرے میں دینی تعلیمات اور اصولوں کو پس پشت ڈال کر ان پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سید عبدالمالک الحوثی کی دلیل کا دوسرا نکتہ یہ تھا کہ عاشور سے سیکھنے والا دوسرا بڑا سبق یہ ہے کہ ظلم کی مخالفت کی جائے۔ اگر ہم مزاحمت کی بات کریں تو یہ نظریہ ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سے مضبوطی سے پھیل چکا ہے اور اس کا اثر واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ لیکن مزاحمت کا بہترین سبق واقعہ عاشور سے ملتا ہے۔ کربلا میں یوم عاشور پر امام حسین علیہ السلام نے مزاحمت کی جو مثال قائم کی وہ ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے موزوں ہے۔ اس راستے پر چل کر ہر دور میں بڑے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس راستے پر چلتے ہوئے امام حسینؓ کی وفات ہوئی۔ سید عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ جب ناانصافی اور جبر کی بات ہو تو ہمیں امام حسین کے راستے پر چلنا چاہیے اور بالکل بھی نہیں جھکنا چاہیے۔

سید عبدالمالک کی دلیل کا تیسرا نکتہ یہ تھا کہ بعض عرب حکومتیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر رہی ہیں۔ یہ کام دو طریقوں سے جاری ہے، رسمی اور غیر رسمی۔ امیر اور بحرین نے ستمبر 2020 میں اعلان کیا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، دوسری جانب سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا اعلان نہیں کیا تاہم سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعاون جاری ہے۔ سید عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ سعودی عرب کا ایک صیہونی کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت دینا اسلامی مقدسات کی کھلی توہین ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب نے اسرائیلی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دی ہیں۔

چوتھا نکتہ یہ ہے کہ دشمنوں کا اصل ہدف عالم اسلام پر بالادستی قائم کرنا ہے۔ مغربی ممالک اور صہیونی طاقتیں کئی دہائیوں سے اس موضوع پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ وہ ممالک اور تنظیمیں ہیں جو آزادی پر اصرار کرتے ہیں اور آزادی کے لیے دشمن سے لڑنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ آزادی کے دفاع کے لیے جوش و جذبہ بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مغربی طاقتیں اور صیہونی اب مایوسی کا شکار ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں