امریکا کے منتخب صدر جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو باغی قرار دے دیا

امریکا کے منتخب صدر جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو باغی قرار دے دیا

واشنگٹن (پاک صحافت) امریکا کے منتخب صدر جو بائیڈن نے امریکی ایوان نمائندگان کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے والے مظاہرین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو بغاوت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں باغی قرار دے دیا۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق سینیٹ کی جانب سے ممکنہ طور پر توثیق کے بعد جوبائیڈن نے ایک ایسی تقریر کا ارادہ کیا تھا جس میں انہیں اس بارے میں بات کرنا تھی کہ معیشت کی بحالی کیسے کی جائے گی اور کورونا وائرس سے متاثرہ چھوٹے کاروباری مالکان کو مالی ریلیف فراہم کیا جاسکے لیکن ان کے کچھ بولنے سے قبل ہی مظاہرین کیپٹل کی عمارت میں گھس کر سینیٹ تک پہنچ گئے۔

جو بائیڈن نے کہا کہ جدید جمہوری دور میں ہمیں ایسی چیز دیکھنے کو نہیں ملی اور ہماری جمہوریت کو ایک بے مثال حملے کا سامنا ہے اور افراتفری اور یہ پرتشدد واقعات قانون کی حکمرانی پر حملہ ہیں۔

حملے کے بعد کیپیٹل ہل کی عمارت کو مقفل کردیا گیا تھا اور نائب صدر مائیک پینس اور قانون سازوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے بعد پولیس مظاہرین کے سامنے آکھڑی ہوئی، نیشنل گارڈ کے دستے تعینات کردیئے گئے تھے اور شام کے فوراً بعد ہی شہر بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جس کی خلاف ورزی پر 50 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

شہر بھر میں کرفیو کے نفاذ کی وجہ یہ ہے کہ افرا تفری پھیلانے والوں نے کئی گھنٹوں تک کانگریس کی نشست پر قبضہ کیے رکھا، امریکا کے منتخب صدر نے پرتشدد ہجوم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیچھے ہٹیں اور جمہوریت کو آگے بڑھنے دیں۔

اپنے 10 منٹ کے خطاب میں بائیڈن نے مظاہرین کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ بے انتہا تقسیم کے باوجود ملک اب بھی ایک ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ میں تمام امریکیوں اور ان لوگوں کا بھی صدر ہوں جنہوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا، لیکن جو بائیڈن نے موجودہ صورتحال پر غم اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہرگز مہذب رویہ نہیں بلکہ افراتفری ہے۔

جو بائیڈن نے ٹرمپ پر غداری کا الزام تو عائد نہیں کیا لیکن کہا کہ جو کچھ ہوا وہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، جو بائیڈن نے کہا کہ صدر کے الفاظ اہمیت رکھتے ہیں، چاہے وہ صدر کتنا ہی اچھا یا برا ہو، ایک صدر کے اچھے الفاظ متاثر کر سکتے ہیں اور برے الفاظ تشدد پر اکسا سکتے ہیں۔

انہوں نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اب قومی ٹیلی وژن پر جائیں، وہ اپنے حلف کی تکمیل اور آئین کا دفاع کریں اور اس محاصرے کو ختم کرنے کا مطالبہ کریں۔

بجائے اس کے ٹرمپ نے بدامنی کے اعلان کے گھنٹوں بعد ایک ویڈیو جاری کی جس میں مظاہرین کو مظاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ مجھے آپ کے درد کا پتا ہے، میں آپ کے زخموں کو جانتا ہوں لیکن آپ کو ابھی گھر جانا چاہیے۔

کانگریس کے دیگر ریپبلکنز کی طرح وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری کیلیگ میکینی نے بھی تشدد کے خاتمے اور ہجوم سے کیپیٹل ہل چھوڑنے کا مطابہ کیا۔

جو بائیڈن نے پہلے بھی کہا تھا کہ ٹرمپ کے خلاف مجرمانہ کارروائی کرنا امریکی جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہوگا البتہ انہوں نے مستقبل میں ٹرمپ کے سبکدوش ہونے کے بعد ان کے خلاف تحقیقات کا عندیہ دیا۔

جوبائیڈن کی اصل تقریر میں ایک گھنٹے سے زیادہ تاخیر ہوئی کیونکہ نئی صورتحال کے پیش نظر ان کے ساتھیوں نے پرانی تقریر کو پھاڑ کر نئی تقریر تحریر کی جو 100 میل دور کیپیٹل ہل میں ہونے والے واقعات کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی تھی۔

اپنی تقریر کے آغاز پر جو بائیڈن نے کہا کہ کیپیٹل ہل میں ہونے والے واقعات ایک حقیقی امریکا کی عکاسی نہیں کرتے ہیں اور مظاہرین سے اپیل کی کہ اس چیز کی عکاسی نہ کریں جو ہم نہیں ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں