اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری روکنے کا مطالبہ کردیا

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری روکنے کا مطالبہ کردیا

واشنگٹن (پاک صحافت) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی طرف سے یہودی آباد کاروں کے لیے مزید 800 گھروں کی تعمیر کے اعلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے یہ تعمیرات روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

گذشتہ روز ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ انتونیو گوٹیرس نے سنہ 1967ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم کردہ یہودی کالونیوں میں نئی آباد کاری کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غیرقانونی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

گوٹیرس کا کہنا ہے کہ مقبوضہ عرب علاقوں میں یک طرفہ طور پر اسرائیلی آباد کاری فریقین کے درمیان امن بات چیت کے امکانات کے لیے خطرے کا باعث اور فلسطینی قوم کے حق خود ارایت اور ان کے مستقبل کےلیے ہونے والی کوششوں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کے نتیجے میں آزاد خو مختار فلسطینی مملکت کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطین میں ‌یہودی آباد کاری اور تعمیرات روکنے کے ساھ ساتھ تنازع کے دو ریاستی حل، منصفانہ اور دیر پا امن کے قیام کے لیے اقدامات کریں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے 800 نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری ی تھی اور یہ گھر غرب اردن کے مقبوضہ علاقوں میں قائم کردہ یہودی کالونیوں میں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں