متحدہ عرب امارات نے ویزوں پر پابندی لگانے کے حوالے سے بیان جاری کردیا

متحدہ عرب امارات نے ویزوں پر پابندی لگانے کے حوالے سے بیان جاری کردیا

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زائد النہیان نے واضح کیا ہے کہ ویزوں کے اجرا پر عارضی پابندی عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث لگائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ 18 نومبر کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان سمیت 12 ممالک کو وزٹ ویزا کے اجرا کا عمل عارضی طور پر غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا تھا۔

اماراتی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے یو اے ای کے حالیہ دورے کے موقع پر کووِڈ 19 سے پیدا ہونے والی مشکلات اور اس کے اثرات پر گفتگو کی گئی۔

علاوہ ازیں دونوں برادر ممالک اور ان کے عوام کی خواہشات کے حصول کے لیے مزید مشترکہ تعاون کے پہلوؤں، باہمی دلچسپی کے معاشی اور سرمایہ کاری کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، امارات کے وزیر خارجہ نے یہ بیان پاکستانی وزیر خارجہ کے دورہ متحدہ عرب امارات کے تناظر میں جاری دیا۔

اماراتی وزیر خارجہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے مابین تعلقات گزشتہ دہائیوں میں مسلسل مضبوط ہوئے ہیں اور اس کی ترجمانی کثیر الجہتی تعاون میں ہوتی ہے اور خطے میں عرب-ایشیائی تعلقات کا منفرد معاملہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے باہمی مفادات اور نظریات انہیں برداشت رواداری، جامعیت اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ترقی پر مبنی ایک ایجنڈے کے اصولوں کے ذریعے علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل امور پر یکجا کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 17 دسمبر کو 2 روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچے تھے، دورے کے دوران انہوں نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے فرمان روا شیخ محمد بن راشد المکتوم اور اپنے ہم منصب شیخ عبداللہ بن زائد النہیان سے اہم ملاقاتیں کی تھیں۔

اس دورے کے دوران شاہ محمود قریشی نے اپنے ہم منصب کو یو اے ای میں موجود پاکستانی برادری کی مشکلات سے آگاہ کیا اور ان کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان سمیت 12 ممالک کو وزٹ ویزا کے اجرا کا عمل عارضی طور پر غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا تھا۔

اس ضمن میں ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یو اے ای انتظامیہ کی جانب سے یہ فیصلہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں