سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات پر پابندی عاید کرنے والے بائیکاٹ قانون کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا

سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات پر پابندی عاید کرنے والے بائیکاٹ قانون کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا

خرطوم (پاک صحافت)  اسرائیلی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ سوڈانی حکام دارالحکومت خرطرم میں صہیونی ریاست کے ساتھ طے پانے والے حالیہ  معاہدے کو روبعمل لانے کے لیے ضرورت سے زیادہ سرگرمی دکھا رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات پر پابندی عاید کرنے والے بائیکاٹ قانون کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

سوڈانی وزارت قانون کے ذرائع  کے حوالے سے اسرائیلی نیوز چینل مکان نے بتایا ہے کہ سوڈانی حکام تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات کی پابندی عاید کرنے والے بائیکاٹ قانون کو جلد ہی منسوخ کرنے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 1958 سے رائج قانون کی روشنی میں اسرائیل یا اسرائیل میں مقیم افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات قائم کرنا ممنوع ہے۔

نیز اسی طرح اسرائیلی تجارتی اور مالیاتی کمپنیوں سے روابط بھی اسی قانون کے تحت منع ہیں، قانون کے تحت کوئی بھی فریق جس کے مفادات اسرائیل سے وابستہ ہوں سے سوڈان معاملہ نہیں رکھے گا اور نہ ہی اس قانون کے تحت اسرائیلی اشیاء براہ راست با بلواسطہ طور پر درآمد کی جا سکتی ہیں۔

یاد رہے رواں مہینے کے پہلے ہفتے میں سوڈان ان ملکوں کی صف میں شامل ہو گیا تھا جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کیے تھے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد اکتوبر میں سوڈان، اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عزم کا اظہار کرنے والا تیسرا عرب ملک تھا، اور دسمبر 2020 کے اختتام پر امریکہ نے سوڈان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا تھا جس کے بعد سوڈان نے اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرلیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ سوڈان کو اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دیگر رہنماؤں کو پناہ دینے کے الزام پر 1990 میں امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی مرتب کردہ دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں