روس نے امریکی نظام کو فرسودہ اور ناکارہ قرار دے دیا

روس نے امریکی نظام کو فرسودہ اور ناکارہ قرار دے دیا

مسکو (پاک صحافت) روس نے امریکی نظام کو فرسودہ اور ناکارہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی نظام اب دنیا بھر میں ایک فرسودہ نظام ہوچکا ہے جسے اب ختم ہوجانا چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابق روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کا فرسودہ انتخابی نظام اور میڈیا کا سیاست زدہ ہونا امریکی معاشرے کی تقسیم اور واشنگٹن میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کا سبب ہیں۔

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ امریکہ کا فرسودہ انتخابی نظام اور میڈیا کا سیاست زدہ ہونا امریکی معاشرے کی تقسیم اور واشنگٹن میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کا سبب ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں کے امریکی کانگریس پر حملے کے ردعمل میں ترجمان روسی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کا الیکٹورل نظام فرسودہ ہے جو جدید جمہوری معیارات پر پورا نہیں اترتا۔

روسی ترجمان کے مطابق اسی فرسودہ نظام کی وجہ سے ہنگامہ آرائی اور تشدد کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ امریکی میڈیا بھی سیاسی جدوجہد کا اہم ذریعہ بن چکا ہے، امریکی معاشرے میں نظر آنے والی تقسیم کی یہی بنیادی وجوہات ہیں۔

واضح رہے کہ دو روز قبل امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج میں تبدیلی اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جگہ ڈونلڈ ٹرمپ کو برقرار رکھنے کی کوشش میں کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بول دیا اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کے حامیوں کے اس حملے کے دوران کیپیٹل ہل (امریکی ایوان نمائندگان) کی عمارت میں موجود قانون دان اپنی جانیں بچاتے ہوئے ڈیسکوں کے نیچے چھپنے پر مجبور ہو گئے، اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں کیپیٹل ہل کے اندر ایک خاتون ہلاک ہو گئیں جس کے بعد میئر نے تشدد میں کمی کے لیے شام کے وقت واشنگٹن میں کرفیو نافذ کردیا۔

اس کے علاوہ مظاہرین کی جانب سے سڑکیں اور راستے بند کیے جانے کے سبب طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار تین افراد راستے میں دم توڑ گئے۔

مظاہرین نے ٹرمپ کے اکسانے پر کیپیٹل ہل پر دھاوا بولا جہاں موجودہ امریکی صدر ایک عرصے سے انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے الیکشن میں اپنی جیت کا دعویٰ کررہے تھے حالانکہ انہیں اس سلسلے میں سپریم کورٹ سمیت تمام اہم فورمز سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کو اکسایا تھا کہ وہ بائیڈن کی بطور صدر کانگریس سے حتمی منظوری کے خلاف احتجاج کریں اور جب کانگریس کی کارروائی یکدم روک دی گئی تو کچھ ریپبلکن قانون دان انتخابی نتائج کے حوالے سے اپنے اعتراضات کا اظہار کر رہے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں