عراقی عدالت نے قتل کے الزام میں ڈونلڈ ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے

عراقی عدالت نے قتل کے الزام میں ڈونلڈ ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے

بغداد(پاک صحافت) عراق کی ایک عدالت نے عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس کے قتل کے الزام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کے قتل کا کیس عراق کی الرصاصہ عدالت میں چل رہا ہے جہاں خصوصی عدالت کے جج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔

گزشتہ برس جنوری میں عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایئرپورٹ کے نزدیک امریکی فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس ہلاک ہوگئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عراقی میڈیا کے حوالے سے کہا کہ قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی ہلاکت پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایک قیمت میں دو آدمی کا خاتمہ ہوگیا۔

مذکورہ حملے کو اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ اگنس کالامارڈ نے غیر قانونی قرار دیا تھا، عراق کی عدالت نے کہا کہ تعزیراتی ضابطہ کی دفعہ 406 کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا جاتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ابتدائی تفتیش مکمل ہوچکی ہیں لیکن ‘اس جرم میں دوسرے مجرموں کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، چاہیے وہ عراقی ہوں یا غیر ملکی۔

دوسری جانب ایران نے ایک مرتبہ پھر انٹرپول سے قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے الزام میں ڈونلڈ ٹرمپ سمیت 48 امریکی عہدیداروں کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کردی ہے۔

ریڈ نوٹس کے بارے میں ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسمٰعیلی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ایران نے بین الاقوامی پولیس تنظیم سے ڈونلڈ ٹرمپ اور 47 دیگر امریکی عہدیداروں کو گرفتار کرنے کی درخواست کی ہے۔

ادھر عراق کے نائب وزیر اعظم بہاء الاعرجی نے عراقی عدالت کے حکم کو عراق کی کامیابی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کے قتل کے انتقام کے سلسلے میں یہ پہلا قدم ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں