کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرکے رہیں گے: حریت کانفرنس

کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرکے رہیں گے: حریت کانفرنس

سرینگر (پاک صحافت) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکرٹری مولوی بشیر احمد نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ظلم کی سیاہ رات جلد ختم ہو گی اور کشمیری ضرور ایک دن بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کریں گے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مولوی بشیر احمد نے پلوامہ میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں نے کبھی بھی بھارت کے ہتھکنڈوں کے سامنے ہار نہیں مانی ہے اور وہ ہر قیمت پر اپنی جدوجہد آزادی کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھیں گے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند کرانے اور کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دینے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائے ۔

حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے الگ الگ بیانات میںکشمیر پولیس کی چارج شیٹ میں 20 لاکھ روپے کے انعام کیلئے ایک جعلی مقابلے میں راجوری کے تین نوجوانوں کے قتل میں بھارتی فوج کے کیپٹن بھوپندر سنگھ کے ملوث ہونے کی تصدیق پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جعلی مقابلوں میں کشمیریوں کے قتل کے تمام واقعات کی تحقیقات کیلئے خصوصی ٹریبونل قائم کرے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماء میر شاہد سلیم نے جموں میں سماجی اور سیاسی کارکنوں کے ایک اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں جعلی مقابلے روز کامعمول بن چکے ہیں، تحریک وحدت اسلامی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاہے کہ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر میں جعلی مقابلوںمیں سینکڑوں نوجوانوں کو شہید کیاہے۔

جموں و کشمیر پیپلز لیگ نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی مظالم کا سخت نوٹس لے،بار ایسوسی ایشن نے سرینگر میں ایڈوکیٹ نذیر احمد رونگا کی صدارت میں اپنی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں 30 دسمبر کو لاوے پورہ سرینگر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں تین بے گناہ طلباء کے قتل کی تحقیقات ہائی کورٹ کے موجودہ جج کے ذریعے کرانے کا مطالبہ کیاہے۔

بھارت کی خصوصی ٹاڈا، پوٹا عدالت نے آج جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طور پر نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کے خلاف تین دہائیوں پرانے ایک جعلی مقدمے میں فردجرم عائد کی۔

اس سے قبل گزشتہ سال 16 مارچ کوجموں کی ٹاڈا عدالت نے یاسین ملک اور چھ دیگر افراد کے خلاف ایک اور جھوٹے مقدمے میں فردجرم عائد کی تھی، بھارت اپنی کٹھ پتلی عدالتوں کے ذریعے حریت رہنمائوں کو خوفزدہ کرنے اور انکی آواز کو دبانے کیلئے انہیں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہا ہے ۔

دریں اثناء نیشنل کانفرنس کے رہنما اور رکن بھارتی پارلیمنٹ جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی نے ایک بیان میں بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کو واپس لے، تنازعہ کشمیر کے تمام فریقین سے بات چیت کا آغاز کرے اور جنوبی ایشیا کے خطے میں تجارت، سفر اور عوام کے درمیان رابطوں کی سہولت کے لئے تمام خطوں کے درمیان تاریخی روایتی راستے کھول دے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں