طالبان

پابندیوں کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں، طالبان کا امریکا کو جواب

پاک صحافت امریکا کی جانب سے پابندیوں کی دھمکی پر طالبان نے کہا ہے کہ وہ پابندیوں سے نہیں ڈرتے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ممالک پر دباؤ ڈالنے اور پابندیاں لگانے کا وقت گزر چکا ہے۔

کابل پر امریکی پابندیوں کے معاملے کے جواب میں طالبان نے کہا ہے کہ دھمکیوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا۔ طالبان رہنما نے کہا کہ دباؤ اور پابندیاں مسائل کا حل نہیں بلکہ معاملات کو پیچیدہ بناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسائل صرف بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں نہ کہ طاقت یا طاقت کے ذریعے۔ مجاہد کے مطابق امریکی حکام نے جو راستہ چنا ہے وہ درست نہیں ہے۔ ہمیں مذاکرات کے ذریعے ہی مشکلات کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

میک کل نے دو روز قبل امریکی وزیر خارجہ کو ایک خط بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ بائیڈن کی حکومت کو طالبان کے خلاف کچھ کارروائی کرنی چاہیے کیونکہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ طالبان کے سلوک پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ طالبان کی طرف سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگانے پر کابل کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پابندی کے باعث مغرب بالخصوص امریکا نے طالبان کے خلاف پابندیاں عائد کی تھیں جس کے اثرات افغانستان کے عوام پر دیکھنے کو ملے۔

یہ بھی پڑھیں

فرانسیسی سیاستدان

یوکرین میں مغربی ہتھیاروں کا بڑا حصہ چوری ہوجاتا ہے۔ فرانسیسی سیاست دان

(پاک صحافت) فرانسیسی پیٹریاٹ پارٹی کے رہنما فلورین فلپ نے کہا کہ کیف کو فراہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے