جاپان شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات پر رضامند ہے

جاپان

پاک صحافت جاپان نے شمالی کوریا کے ساتھ بغیر کسی شرط کے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

جاپان کے وزیر اعظم فومینو کاشیدا نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ بغیر کسی شرط کے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

فارس نیوز نے رپورٹ کیا کہ فومینو کشیدا نے پیر کو قانون سازوں کے درمیان شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے غیر مشروط بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جاپان کے وزیر اعظم نے شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے تجربے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

شمالی کوریا نے سال 2022 کے دوران 70 سے زائد کروز اور بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔ ٹوکیو نے اپنے دفاعی بجٹ میں زبردست اضافہ کیا ہے، جس سے پیانگ یانگ کے دفاعی پروگرام پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ جاپان کی جانب سے 2023 کے دفاعی بجٹ میں اضافہ اتنا زیادہ ہے کہ جاپانی عوام اس سے ناخوش ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کی آڑ میں جاپانی سیاست دانوں کو ملک کی جی ڈی پی کا دو فیصد ہتھیاروں پر خرچ کرنا چاہیے۔ اس معاملے کو لے کر جاپان کے لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں