مقبوضہ کشمیر میں گائو کدل قتل عام کی 31ویں برسی، سرینگر کے متعدد علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی

مقبوضہ کشمیر میں گائو کدل قتل عام کی 31ویں برسی، سرینگر کے متعدد علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی

سرینگر (پاک صحافت)  مقبوضہ کشمیر میں گائو کدل قتل عام کی 31ویں برسی پر گزشتہ روز سرینگر کے علاقے گائو کدل اور اسکے ملحقہ علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس نے دی تھی جبکہ دیگر آزادی پسند تنظیموں نے اس کی حمایت کی، گائو کدل اور اسکے ملحقہ علاقوں میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔

قابض انتظامیہ نے لوگوں کو بے گناہ شہریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے روکنے کیلئے سرینگر اور دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات رہے، گاڑیوں اور لوگوں کی نقل وحرکت روکنے کیلئے سڑکوں پر جگہ جگہ رکاوٹیںکھڑی کی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ بھارتی فوجیوں نے 21جنوری 1990کو سرینگر کے علاقے گائوکدل میں پر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 50سے زائد افراد کو شہید کر دیاتھا، یہ مظاہرہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے گائو کدل میں کئی خواتین کی آبروریزی کے خلاف کیا جا رہا تھا۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے 1990 کے سانحہ گائوکدل کے شہداء کی 31ویں برسی کے موقع پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی نے ایک بیان میں (آج) جمعرات کو سرینگر میں مکمل ہڑتال کی اپیل کااعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ گائوکدل بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں قتل عام کے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔

انہوں نے جنوری کے مہینے کو کشمیریوں کیلئے مہلک ترین مہینہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ گائوکدل، سوپور، کپواڑہ اور ہندواڑہ جیسے کشمیریوں کے قتل عام کے بدترین واقعات جنوری کے مہینے میں ہی رونا ہوئے ہیں جن میں سینکڑوں کشمیریوں کو شہید کیاگیا۔

حریت رہنماء جاوید احمد میر نے ایک بیان میں کہاکہ کشمیری عوام نے اپنے ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت کیلئے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ شہدائے گائوکدل نے بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ کشمیری عوام کو درپیش مشکلات دور کرانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اسلامی تنظیم آزادی کے سربراہ عبدالصمد انقلابی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں سانحہ گائوکدل کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین باب قراردیا۔

انہوں نے افسوس ظاہر کیاکہ سانحے کے متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں، جموں و کشمیر تحریک استقلال کے نائب چیئرمین مشتاق احمد بٹ اور جنرل سیکریٹری عبدالحمید نے ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ کشمیری شہداء نے بھارتی تسلط سے آزادی کے مقدس مشن کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔

انہوں نے شہداء کے اہلخانہ سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ قابض بھارتی فوج روزانہ کی بنیاد پروادی کشمیرمیں نہتے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے ۔

جموں وکشمیر ڈیموکریٹک پولٹیکل موومنٹ نے شہدائے گائو کدل کی یاد میں بارہمولہ میں ایک دعائیہ مجلس کا اہتمام کیا جس کی صدارت پارٹی کے جنرل سیکرٹری پیر ہلال احمد نے کی۔

پیر ہلال احمد نے اس موقع پر کہا کہ بھارتی فوج نے گزشتہ تین دہائیوں کے دورا ن مقبوضہ جموںو کشمیر میں بڑے پیمانے پر کشمیریوں کا قتل عام کیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری شہداء کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں ہونے دیا جائے گا، انہوں نے شہدائے گائو کدل سمیت تمام کشمیری شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں