فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کی جانب سے اسرائیلی فوجی عدالتوں کی ظالمانہ کاروائیوں پر رپورٹ جاری کردی گئی

فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کی جانب سے اسرائیلی فوجی عدالتوں کی ظالمانہ کاروائیوں پر رپورٹ جاری کردی گئی

فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کی رپورٹ کے مطابق سال 2020ء کے دوران اب تک اسرائیلی فوجی عدالتوں کی طرف سے نام نہاد الزامات اور مقدمات میں پانچ فلسطینیوں کو عمر قید کی سزائیں سنائیں۔

اسیران اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ریاض الاشقر نے سوموار کے روزجاری ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیلی عدالتوں سے تاحیات عمر قید کی سزائیں سنائی جاتی ہیں، تا حیات عمر قید کی سزا 99 سال کے لیے ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجداری قوانین کے تحت کسی یہودی آباد کار یا فوجی کو قتل کرنے کے جرم میں ملوث ملزم کو تا حیات قید کی سزا دی جاتی ہے، اگر مقتولین کی تعداد زیادہ ہے تو ان کی تعداد کے حساب سے عمر قید کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے۔

اس وقت 4400 فلسطینی اسرائیلی زندانوں میں قید ہیں جن کی مجموعی سزائوں‌کا دورانیہ ہزاروں سال میں ہے،ان میں سے 2670 مختلف نوعیت کی سزائوں کاٹ رہے ہیں، ان میں سے 543 کو عمر قید کی سزائوں کا سامنا ہے، رواں سال ان کی تعداد میں پانچ کا اضافہ ہوا ہے۔

ریاض الاشقر نے بتایا کہ رواں سال تا حیات عمر قید کی سزا پانے ولاوں میں عاصم عمر البرغوثی شامل ہیں، عاصم کو اسرائیلی فوج نے یکم جولائی 2019ء کو گرفتار کیا گیا تھا،گرفتاری کے بعد اسے بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پر دو اسرائیلی فوجیوں کے قتل کے الزام میں فوجی عدالت میں مقدمہ کی کارروائی کی گئی، عدالت کی طرف سے اسے چار بار تا حیات عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، ان کے والد اسیر عمرالبرغوثی 26 سال اسرائیلی جیلوں میں قید رہ چکے ہیں۔

اسی طرح رواں سال عمر قید کی سزا پانے والوں میں الخلیل شہر کے نواحی علاقے الظاھریہ سے تعلق رکھنے والے سحبائن وائل الطیطی ہیں،  الطیطی کو اسرائیلی فوج نے 9 مارچ 2016ء کوگرفتار کیا تھا، اسے عوفر جی فوجی عدالت سے ایک بار تاحیات عمر قید اور 8 لاکھ شیکل جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔

اسی طرح رواں سال 19 سالہ خلیل یوسف جبارین کو اسرائیلی عدالت سے ایک یہودی آباد کار کو چاقو گھونپ کر موت کے گھاٹ اتارنے کے الزام میں تا حیات عمر قید اور اڑھائی شیکل جرمانہ کی سزا سنائی۔

 خیال رہے کہ یوسف جبارین کی عمر گرفتاری کے وقت 17 سال تھی اور عالمی قوانین کے تحت اسے عمر قید کی سزا دینے کا کوئی جواز نہیں، رواں سال 20 سالہ عمر سمیر الریماوی اور 18 سالہ ایھم صباح کو عمر قید کی سزائیں دی گئیں، صباح کو اسرائیلی فوج نے 2015ء کو گرفتار کیا تھا، اس وقت اس کی عمر 15 سال تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں