سال 2020 اور پاکستان کی معاشی صورتحال

سال 2020 اور پاکستان کی معاشی صورتحال

اسلام آباد(پاک صحافت) سال 2020  صدی کا بدترین سال ثابت ہوا جس میں کورونا نے پوری دنیا کی معیشتوں کو ہلاکر رکھ دیا جس میں پاکستان بھی شامل ہے،دنیا ابھی کورونا کے مہلک اثرات سے نبردآزما ہونے کی کوششوں میں تھی کہ کورونا کی دوسری زیادہ مہلک لہر نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں برطانیہ نے لاک ڈائون کردیا اور کئی ممالک نے برطانیہ سے اپنی فلائٹس بند کرکے روابط منقطع کردیئے۔

سال  2019-20ءمیں ملکی معاشی کارکردگی کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جی ڈی پی، مینوفیکچرنگ، زراعت اور سروس سیکٹرز کی گروتھ منفی رہی۔ ملکی ایکسپورٹس جمود کا شکار رہنے کی وجہ سے نئی ملازمتوں کے مواقع محدود رہے جس کے باعث بیروزگاری، غربت اور افراطِ زر (مہنگائی) میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے ملکی گروتھ کو تیز اور نئی ملازمتیں پیدا کرنے کیلئے تعمیراتی شعبے کو نئی مراعات دیں اور ایمنسٹی کی مدت 31دسمبر 2020ءسے بڑھا کر 30جون 2021ءتک کردی ہے جس سے کنسٹرکشن اور اس سے منسلک شعبوں بالخصوص سیمنٹ اور اسٹیل سیکٹرز میں تیزی آئے گی۔

 ملکی ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کیلئے بجلی اور گیس کے مراعاتی ٹیرف کا اعلان کیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک نے بھی LTFFاور ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کے تحت رعایتی شرح سود پر قرضے دیے ہیں بالخصوص ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کے نئے فاسٹر ریفنڈ نظام کے تحت 150ارب روپے کے انکم اور سیلز ٹیکس ریفنڈز ایکسپورٹرز کو واپس کئے ہیں جن سے ایکسپورٹرز کا کیش فلو بہتر ہوا ہے جس کا اندازہ ملکی ایکسپورٹس میں حالیہ اضافے کی صورت میں نظر آتا ہے۔ایف بی آر نے کورونا کے دوران رواں مالی سال کے پہلے 6مہینوں میں 2195ارب روپے کا ریونیو وصول کیا ہے جو قابلِ ستائش ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 20ارب ڈالر تک پہنچ جانے سے روپیہ مستحکم ہوا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں اب یہ 168روپےسے 160روپے کی سطح پر آگیا ہے۔

 اسٹیٹ بینک کے بیرون ملک مقیم اور مقامی پاکستانیوں کیلئے ’’روشن پاکستان ڈیجیٹل اکائونٹ‘‘ کھولنے کی سہولت سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک اس اکائونٹ میں بیرون ملک سے 200ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے، اس کے باوجود حکومت پر بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا بوجھ موجودہے۔

 سعودی عرب کے 2 ارب ڈالر کی واپسی کیلئے ہمیں چین سے 1.5ارب ڈالر کا قرضہ لینا پڑا۔ سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر کی مزید ادائیگی جنوری میں واجب الادا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کا 3ارب ڈالر کا نرم شرائط کا حامل قرضہ اس کے علاوہ ہے، رواں مالی سال کے 5مہینوں میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں بیرونی قرضوں میں 45فیصد اضافہ ہوا ہے اور ملکی قرضے جی ڈی پی کے 98فیصد تک پہنچ گئے ہیں جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔

پی ٹی آئی حکومت اپنے دو وعدے پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پہلا نقصان میں چلنے والے اداروں پی آئی اے، ریلوے، واپڈا اور اسٹیل ملز کی نجکاری نہیں کی گئی جو قومی خزانے پر 1000ارب روپے سالانہ کابوجھ ہیں، دوسرا گردشی قرضے جو بڑھ کر 2000ارب روپے سے زائد ہو چکے ہیں، کو کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

سنہ 2002میں مشرف دور میں اصل پاور پالیسی کو تبدیل کرکے آئی پی پیز کو اضافی مراعات دی گئیں جس سے قومی خزانے پر ناقابلِ برداشت بوجھ بڑھا۔ میں نے ان بےضابطگیوں کی نشاندہی اپنے کالم ’’آئی پی پیز میں ہزاروں ارب روپے کی کرپشن‘‘ میں کی تھی جس پر حکومت نے 13نجی شعبے اور 6سی پیک کے ونڈ پاور منصوبوں سے کامیاب مذاکرات کئے جس کے تحت اب آئی پی پیز کو 1994اور 2002کی پاور پالیسی کے تحت ڈالر کے بجائے روپے میں منافع دیا جائیگا اور معاہدے کی باقی مدت کیلئے ڈالر اور روپے کی قیمت 148روپے فکس کردی گئی ہے جس کے نتیجے میں ونڈپاور آئی پی پیز کا ٹیرف 24روپے سے کم کرکے 14روپے فی یونٹ کردیا گیا ہے۔

 اس کے علاوہ یہ آئی پی پیز کمپنیاں نیپرا کے ذریعے حکومت کو 104ارب روپے واپس کرنے پر بھی تیار ہوگئی ہیں جبکہ نئے معاہدے کے تحت حکومت کو مجموعی طور پر604ارب روپے کی بچت ہوگی۔

سال 2020ءکے اختتام پر اسٹاک ایکسچینج میں تیزی رہی اور انڈیکس 43416تک پہنچ گیا جس کی اہم وجہ بینکوں کے شرح سود میں کمی ہے، 2018میں آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے بعد معاہدے کے تحت اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ بڑھاکر 13.25فیصد کردیا تھا جس کی وجہ سے بینکوں کے قرضوں کی شرح سود 15سے 16فیصد تک پہنچ گئی تھی جس سے نئی سرمایہ کاری رک گئی لیکن بعد میں اسٹیٹ بینک تیز گروتھ کیلئے اپنا پالیسی ریٹ کم کرکے 7فیصد تک لے آیا جس سے ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور اسٹیل سیکٹرز میں نئی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔

سنہ 2020میں پی ڈی ایم کی احتجاجی ریلیوں اور جلسوں نے ملک میں سیاسی استحکام کو متاثر کیا جو نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، مذکورہ بالا تجزیے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حکومت نے کچھ شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں تو کئی شعبوں میں وہ ناکام رہی، خدا سے یہی دعا ہے کہ 2021ہم سب کیلئے کامیابیوں اور کامرانیوں کا سال ثابت ہو۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں