بھارت جمہوری ملک نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر بدنما داغ  ہے

بھارت جمہوری ملک نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر بدنما داغ  ہے

(پاک صحافت) بھارت خود کو ایک جمہوری ملک کہتا ہے مگر وہ کبھی جمہوری ملک نہیں رہا، وہاں تعصب رہا، اور جانب داری رہی بھارت کے جتنے بھی ہوں مگر حقائق بہت ہی مختلف ہیں، نریندر مودی کے مسلسل دوسری بار برسر اقتدار آنے کے بعد مسلم کش اقدامات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد متنازعہ شہریت ایکٹ بھی منظور کر لیا گیا، متنازعہ شہریت قانون کے خلاف طلبہ اور مسلمانوں سمیت لاکھوں شہریوں کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا جارہا ہے نئی دہلی کے شاہین باغ میں متنازعہ بل کیخلاف مظاہرے ہوئے، اب وہاں کسان سراپا احتجاج ہیں وہاں بچے، طلبہ، طالبات، بوڑھے اور خواتین بھی سراپا احتجاج ہیں عوامی مظاہروں سے خوفزدہ مودی سرکار نے نیشنل سیکیورٹی ایکٹ نافذ کردیا ہے۔

اس وقت پورے بھارت میں بے یقینی کی فضا قائم ہے اور مسلمان و دیگر اقلیتیں سخت عدم تحفظ کا شکار نظر آرہی ہیں، گزشتہ سال بنگلور میں قانون کی مخالفت کرنے والے بنگالی مہاجرین کی جھگیاں مسمار کر دی گئی ہیں جس سے سخت سردی میں ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔

بنگلہ دیشی تارکین کی جھگیوں پر مشتمل پوری بستی کو انتظامیہ نے مسمار کر دیا، بی جے پی کے مقامی رکن ریاستی اسمبلی نے بستی مسمار کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی بھارت میں احتجاجی لہر کیساتھ ساتھ انتہاپسند ہندو رہنما اپنی مسلم مخالف ذہنیت کا بھی کھل کر اظہار کر رہے ہیں انتہا پسند جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) مغربی بنگال کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت پورے بھارت میں رجسٹریشن پالیسی پر عمل درآمد کریگی جس کے بعد ایک کروڑ مسلمانوں کو ملک سے نکال دیا جائیگا انہوں نے الزام عائد کیا یہ مسلمان بھارت میں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔

دلیپ گھوش نے الزام عائد کیا کہ جو بھارت کے متنازعہ شہریت کے بل کی مخالفت کررہے ہیں وہ بھارت کیخلاف ہیں۔ انہوں نے کہا غیر قانونی طور پر مقیم افراد حکومت کی جانب سے دو روپے کلو چاول کی اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن ہم جلد انہیں واپس بنگلہ دیش بھیجیں گے، بی جے پی رہنما نے الزام عائد کیا کہ بنگلہ دیشی مسلمان مغربی بنگال میں جرائم میں بھی ملوث ہیں۔

دنیا گواہ ہے کہ 1971ء میں بھارت نے کھلی جارحیت کی اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور آج نریندر مودی اس بات کا برملا اعتراف بھی کر رہے ہیں۔

بھارت نے اُس وقت بنگالیوں سے بڑی ہمدردی جتائی اور انہیں اپنے دام میں پھنسا لیا، تاہم پاکستان سے علیحدہ ہونے کے باوجود بنگالیوں نے بھارت میں شامل ہونے کے بجائے اپنی الگ مسلم شناخت برقرار رکھی۔

گزشتہ 49 برس کے دوران بھارتی حکمرانوں کے مسلم مخالف اقدامات کو دیکھتے ہوئے آج بنگالیوں پر ہندوتوا کا اصل چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے، بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی صورت میں بھارت نواز حکومت ہونے کے باوجود وہاں کے عوام کی اکثریت بھارت کے خلاف ہے، ہندوؤں کی مسلمانوں سے عداوت اور تعصب پر مبنی رویہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔

تقسیم ہند سے قبل برطانوی ہند میں بنگال کا صوبہ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دیگر تمام صوبوں سے بڑا تھا، یہاں کا اقتصادی اور معاشی نظام مکمل طور پر ہندووں کے کنٹرول میں تھا، 1905ء میں جس وقت لارڈ کرزن ہندوستان کے وائسرائے تھے، ان کی سفارش پر برطانوی پارلیمنٹ نے انتظامی سہولت کے پیش نظر بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ منظور کر لیا۔

کیونکہ انگریزوں کے مطابق اتنے بڑے اور وسیع صوبے کا انتظام صحیح طریقے سے چلانا ایک گورنر کے بس کی بات نہ تھی، اس تقسیم کے نتیجے میں بنگال کے دو صوبے بن گئے، مشرقی بنگال، مغربی بنگال، تقسیم بنگال سے ہندووں اور مسلمانوں پر مختلف اثرات مرتب ہوئے، مسلمان اس تقسیم سے بڑے خوش تھے، کیونکہ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، جو ایک نیا صوبہ بن گیا۔

لیکن جہاں تک ہندووں کا تعلق تھا وہ اس تقسیم سے بڑے برہم اور سیخ پا ہوئے، اگرچہ مغربی بنگال میں ان ہی کی اکثریت تھی لیکن وہ ہر گز یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ مشرقی بنگال اور مسلم اکثریت والا صوبہ بن جائے اور اس طرح پورے بنگال پر ان کی اقتصادی اور سیاسی اجارہ داری اور بالادستی ختم ہو جائے، یہی وجہ تھی کہ ہندووں نے تقسیم بنگال کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس تقسیم کی منسوخی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔

عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی، انگریزی مال کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا، قانون کی خلاف ورزیاں شروع کر دی گئیں، ٹیکسوں کی ادائیگیاں روک دی گئیں اور بالآخر تشدد پر اتر آئے یہاں تک کہ وائسرائے کو قتل کرنے کی سازشیں تیار ہونے لگیں۔

ان حالات میں انگریز سرکار نے آخر کار گھٹنے ٹیک دیے اور 1911ء میں بنگال کی تقسیم منسوخ کر دی گئی، اس منسوخی سے مسلمانوں کو سخت صدمہ پہنچا لیکن انکی حالت نہایت پسماندہ تھی لہٰذا وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ تقسیم بنگال نے ہندوستانی سیاست کے میدان میں نئے بیج بو دیے، تقسیم بنگال پر ہندووں کی تنگ نظری کے پیش نظر مسلمانوں کا اعتماد آل انڈیا نیشنل کانگریس سے اٹھ گیا، یہی وجہ تھی کہ شملہ وفد کے تین مہینے بعد مسلمانوں نے ایک نہایت اہم فیصلہ یہ کیا کہ انہوں نے اپنے سیاسی حقوق کے تحفظ کیلئے ایک نئی سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے 30 دسمبر 1906ء کو بمقام ڈھاکہ قائم کرلی جس کے پلیٹ فارم سے مسلمانان برصغیر نے اپنی منزل یعنی آزادی کو پا لیا۔

بی جے پی اور نریندر مودی کی مسلم کش پالیسیوں سے تنگ آکر خودہندوؤں کی طرف سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، ترنمول کانگریس کی رہنما اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کا کہنا ہے کہ انڈیا میں شہریت کا متنازعہ قانون اور شہریوں کی رجسٹریشن کا این آر سی حکمران بی جے پی کی نفرت کی سیاست کا ایجنڈا ہے، یہ عوام میں پھوٹ ڈال کر سیاسی فائدہ اٹھانے کا ایک حربہ ہے، لیکن یہ کامیاب نہیں ہوگا۔

بھارتی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں سے وہ حلقے بھی قائداعظم کی عظمت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت ان کے نظریہ کی مخالفت کی تھی۔

ان کا اب ماننا ہے کہ قائداعظم کے نظریات سو فیصد درست تھے اور ہمارا کانگریس کا ساتھ دنیا اورپاکستان کی مخالفت غلط فیصلہ تھا۔

بھارتی مسلمانوں میں بیداری کی یہ لہر اس بات کی غماز ہے کہ مسلمان جاگ چکے ہیں اور اب وہ اپنے حقوق کا تحفظ ہر قیمت پر ممکن بنائیں گے۔

ایسے میں بھارت میں ایک اور نئے پاکستان کا منظر نامہ صاف نظر آرہا ہے، وہ دن دور نہیں جب بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا اور اس خطے میں مسلمانوں کی ایک اور ریاست معرض وجود میں آئے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں