گاؤ کدل قتل عام، کشمیری عوام کی مظلومیت اور بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی

گاؤ کدل قتل عام، کشمیری عوام کی مظلومیت اور بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی

(پاک صحافت)سانحہ گاؤکدل کشمیری عوام کی اس مظلومیت کا یاد ہے جب وادی میں یخ بستہ سردی تھی مگر 21 جنوری کو موسم صاف تھا اور کرفیو کی وجہ سے لوگ  گھروں میں سہمے ہوئے، محصور تھے، گھروں میں اشیاء خوردو نوش ختم ہو رہا تھا، لگا تار کرفیو کی باعث لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی، کئی علاقوں میں احتجاج  شروع ہوگیا۔

جموں و  کشمیر کے شہر و دیہات میں بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں جلسے اور جلوس منعقد ہو رہے تھے، فضاﺅں میں آزادی کے ترانے گونج رہے تھے، اور آواز بین الاقوامی سطح پر بھی سنی جانے لگی تھی، اسی آواز کو دبانے اور تحریک کو کچلنے کے لئے جنوری 1990میں نئی دلی نے جگموہن کو ریاست کا گورنر بنا کر بھیجا۔

اس دوران شہر کے پادشاہی باغ سے لوگوں نے ایک جلوس نکالا۔ جو، جواہر نگر اور راج باغ سے ہوتے ہوئے گاؤ کدل پہنچ گیا۔جلوس میں شامل مرد و زن  آزادی کے حق میں نعرے لگا کر آگے بڑ ھ رہے تھے، ان میں خواتین اکثریت میں تھیں جو گھروں میں بھوک سے بلکتے بچوں اور سردی سے نیلے پڑتے ان کے جسموں کو جانبر کرنے کے لیے نکلی تھیں، سخت سردی میں اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتا یہ پُر امن جلوس  پل پر پہنچا۔

تو قابض بھارتی  فورسز نے دونوں اطراف سے بندوقوں کے دہانے کھول دئیے، درختوں کی ٹہنیوں میں چھپے شوٹرز نے رہی سہی کسر پوری کردی، گولیوں کی بوچھاڑ میں لوگ خون میں لت پت ہوکر گرنے لگے۔ کچھ لوگوں نے پل پر لیٹ کر کچھ نے پانی میں چھلانگ لگا کر جان بچانے کی کوشش کی، جونہی فائرنگ کا سلسلہ رُکا، سی آر پی ایف کی ایک بھاری جمعیت اپنے آفیسر سمیت پُل پر نمودار ہوئی اور چن چن کر اُن لوگوں پر گولیاں چلانے لگے جو پل اور سڑک پر زخموں سے کراہ رہے تھے۔

اس سانحہ میں 52شہری جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے، کشمیر کے گاؤ کدل کا یہ واحد واقعہ تھا، جب ایک ہی روز، ایک ہی مقام پر 50 سے زائد لاش اٹھے، جگموہن کےگورنر بنتے ہی 21 جنوری کو خون کی ہولی کھیلی گئی، لاشوں کی بے حرمتی کی گئی، اور بے دردی سے ٹرک میں ڈال کر پولیس اسٹیشن پہنچایا گیا،  اس قتل عام پر قابض انتظامیہ اور جگموہن کے کرتا دھرتا نے جشن منایا۔

اس سانحے کو اب ایک چوتھائی صدی گزرچکی ہے، لیکن کشمیر کے گاﺅکدل  میں ہوا قتل عام، رونگٹے کھڑے کردیتا ہے، اپنی آنکھوں سے یہ خونی منظر دیکھنے والوں کیلئے یہ کل کی  سی بات ہے جب جہلم سے پانی کے بدلے خون کے ریلے بہنے لگے۔

آج تک اس قتل عام میں ملوث کسی بھی سی آر پی ایف اہلکاریا آفیسر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ہیومن رائٹس کمیشن میں بھی گاؤ کدل سانحہ کی تحقیقات کے حوالے سے عرضی داخل کی گئی تھی، سانحہ گاؤکدل کو 31 برس مکمل ہوچکے ہیں تاہم عالمی برادری اور عالمی طاقتوں کی جموں و کشمیر کے معاملے پر بے حسی سخت افسوس ناک ہے، کشمیرکے عوام کے ساتھ عالمی برادری کایہ دہرا معیار لمحہ فکریہ ہے۔

سانحہ گاؤکدل کی برسی پر کشمیر میں  ایک بار پھر پُر زور مظاہروں کا اعلان کیاگیا، تعلیمی و کاروباری مراکز بند رہے، بھارتی فورسز نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی کشمیر کی تحاریک چلانے والے رہنماوں اور مظاہرین کو ایک بار پھر پابند سلال کردیا، لیکن آزاد ی تک نہ تحریک رُکے گی نہ کوئی آواز دباسکے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں