اسرائیلی دہشتگردی غزہ

اسرائیلی دہشتگردی روکنا وقت کی اہم ضرورت!

اسلام آباد (پاک صحافت) قابض اسرائیل کی نہتے اور معصوم فلسطینیوں پر جارحیت رکوانے کے لئے جب تک عالمی برادری اور امت مسلمہ متحد ہوکر عالمی اقدامات نہیں کرتے تب تک یہ دہشت گردی پھیلاتی رہے گی۔ حالیہ جنگ میں اسرائیل نے وحشیانہ جارحیت کی انتہائی کردی لیکن امت مسلمہ اور علمی برادری نے صرف زبانی مذمتی بیانات پر ہی اکتفا کیا اس بے بسی پر ہر مسلمان کی آنکھ اشکبار ہے۔ اسرائیل جدید ترین ہتھیار سے نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بناتا رہا لیکن کسی مسلمان ملک کی فوج یا چالیس مسلمان ممالک کی مشترکہ فوج کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ معصوم فلسطینیوں کا عملی طور پر ساتھ دیں۔

اس وقت اسرائیل اپنے جنگی جرائم، انسانی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف کی وجہ سے عالمی سطح پر ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر پہچانا جاچکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ و برطانیہ سمیت عرب ممالک اور بہت سارے اسلامی ممالک اس کو دہشت گرد کہنے سے بھی گھبراتے ہیں۔ جبکہ مسلم امہ کے اکثر شاہی خاندان اسرائیل کے ساتھ اپنے باقاعدہ روابط بھی استوار کرچکے ہیں۔ عرب ریاستوں نے تو اسرائیل کو بھی اپنی سرزمین پر اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طور پر رسائی دے رکھی ہے۔ حال ہی میں چند اسلامی ریاستوں اور عرب ممالک نے باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیل کی حالیہ بربریت کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عرب اور مسلم ریاستیں جو اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی روابط استوار کرچکی ہیں، ان روابط کو ختم کرنے کا اعلان کردیتیں مگر افسوس ہے کہ ان ممالک کی جانب سے کوئی عملی ردعمل سامنے نہیں آیا، خالی بیانات کے ذریعے اسرائیلی گولہ بارود کا جواب دینے کی کوششیں کرتے رہے نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیل مزید شیر ہو گیا اور فلسطین کے 66 بچوں، 39 خواتین سمیت 248 شہری خاک اور خون میں لوٹتے رہے۔ بمباری سے 769 دکانیں تباہ ہوئیں ،258 عمارتوں میں موجود 1042 گھر تباہ ہوگئے جبکہ ساڑھے 14ہزار سے زائد گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ اقوام متحدہ کے مطابق بمباری سے غزہ میں صاف پانی کی فراہمی کا 50فیصد نیٹ ورک تباہ ہوگیا جس سے 8 لاکھ افراد صاف پانی سے محروم ہو چکے ہیں۔

فلسطین میں اسرائیل کی درندگی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اب ہر طرح سے فلسطینی عوام کی مدد کی جائے۔ وقتی جنگ بندی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا، اس سلسلے میں مستقل حل کے لیے عالمی طاقتوں کو اپنا رویہ بدل کر آزاد اور خود مختار فلسطین کے قیام کے سلسلے میں عملی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ 57 مسلم ملکوں کی تنظیم او آئی سی کو بھی اس موقع پر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں جن ممالک کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ان میں ترکی، پاکستان، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سرفہرست ہیں۔ اسرائیل کی مسلم دشمنی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب اسرائیل بھارت اور افغانستان تک اپنی رسائی یقینی بنا چکا ہے۔ اسرائیلی جارحیت اگر اسی طرح جاری رہی تو یہ المیہ گمبھیر صورتحال اختیار کر جائے گا اور خدشہ اس بات کا ہے کہ تیسری جنگ عظیم دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اوباما

امریکی انتخابات کے ممکنہ حیرت اور 14ویں حکومت کی خارجہ پالیسی کے منظرنامے

پاک صحافت امریکہ میں اس موسم خزاں کے انتخابات بڑی حد تک اس بات کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے