لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کو راحت مل گئی

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کو راحت مل گئی

لاہور ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو(نیب) کے آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ کی ضمانت کی 14 جنوری تک توسیع کردی۔

جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست ضمانت پر سماعت کی جہاں نیب کی جانب سے وکیل فیصل بخاری جبکہ رانا ثناءاللہ کی جانب سے امجد پرویز ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

نیب کے وکیل فیصل بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے رانا ثناءاللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں، نیب کے خلاف انکوائری انوسٹی گیشن میں تبدیل ہو چکی ہے۔

اس موقع پر عدالت نے رانا ثناءاللہ کے وکلا کو نیب کے جواب کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیا اور نیب کی جانب سے رانا ثناءاللہ کے وکلا کو کاپی فراہم کر دی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ نے دلائل سننے کے بعد رانا ثناءاللہ کی ضمانت میں 14 جنوری تک توسیع کر دی اور نیب کو انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ 3 دسمبر کو نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں رانا ثناءاللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے، جس پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے دستخط کیے تھے۔

نیب کا کہنا تھا کہ رانا ثناءاللہکے خلاف نیب کو 3 شکایتیں موصول ہونے کے بعدکارروائی کا آغاز کیا گیا اور ان کے خلاف 9 نومبر کو وارنٹ گرفتاری تیار کیے گئے تھے۔

رانا ثناءاللہ نے سماعت کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ہر کارکن نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے، انہوں نے کہا کہ کوٸی شخص وکٹ کے دونوں جانب نہیں کھیل رہا۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اگر 31 جنوری تک استعفیٰ نہیں آیا اور الیکشن نہ ہوٸے تو لانگ مارچ ہو گا اور استعفے بھی آٸیں گے۔

مقدمات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میرے خلاف تین سال لگ رہے ہیں لیکن کچھ نہیں ملا اور جب کچھ نہ ملا تو مجھ پر ہیروئن ڈال دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہیروئن خود پیتے ہیں اور ڈال مجھ پر دی، نیب کو شرم آنی چاہیے کہ ایک پیسے کی بھی غیر قانونی نہیں ثابت کر سکے، ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کو کہتا ہوں کہ اب کیوں بلیک میل ہو رہے ہیں، ویڈیو سے باہر آجاٸیں۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ نیب کی کارروائیاں ہمارا راستہ نہیں روک سکتیں، پی ڈی ایم نے جو تحریک شروع کی ہے وہ منطقی انجام تک پہنچاٸیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن کا ہماری تحریک سے کوٸی تعلق نہیں، سینیٹ الیکشن جنوری میں کرائیں یا اپریل میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں