ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اہم آرڈیننس کی منظوری دے دی

ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اہم آرڈیننس کی منظوری دے دی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں ریپ کے واقعات کی روک تھام اور اس سے متعلق کیسز کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اینٹی ریپ (انویسٹگیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس 2020 کی باضابطہ منظوری دے دی۔

اس آرڈیننس کے ابتدائی مسودے میں ریپ کے مجرمان کو نامرد بنانے سے قبل ان کی رضامندی حاصل کرنے کی شرط شامل کی گئی تھی جسے حتمی مسودے میں ختم کردیا گیا۔

واضح رہے کہ ملک میں ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیے وفاقی کابینہ نے 25 نومبر کو 2 انسداد ریپ آرڈیننسز کی اصولی منظوری دی تھی۔

جس کے بعد اگلے ہی روز اسے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی نے بھی منظور کرلیا تھا اور اس آرڈیننس کو صدر مملکت کو ارسال کیا گیا تھا جس کے نفاذ سے ریپ کے مقدمات کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ ملک میں ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عوام کی ردِ عمل کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی لانے کا اعلان کیا تھا۔

 مذکورہ آرڈیننس کے نمایاں خدو خال درج ذیل ہیں: آرڈیننس کے مطابق ریپ کے ملزمان کے خلاف مقدمات کی تیزی سے سماعت اور انہیں جلد از جلد نمٹانے کے لیے ملک بھر میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو 4 ماہ میں اس نوعیت کے مقدمات کو نمٹائیں گی، اس آرڈیننس میں ریپ کے مجرم کو نامرد بنانے سے قبل اس کی رضامندی حاصل کرنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔

وزیراعظم اینٹی ریپ کرائسس سیل قائم کریں گے جو وقوعہ کے بعد 6 گھنٹے کے اندر اندر میڈیکو لیگل معائنہ کرانے کا مجاز ہوگا، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی مدد سے قومی سطح پر جنسی زیادتی کے مجرمان کا رجسٹر تیار کیا جائے گا۔

آرڈیننس میں جنسی زیادتی کے متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ اسے قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا۔

آرڈیننس کے تحت تحقیقات میں کوتاہی برتنے پر پولیس و سرکاری ملازم کو 3 سال قید کی سزا اور جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے والے پولیس اور سرکاری ملازم کو بھی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، نوٹیفائیڈ بورڈ کے ذریعے مجرم کو کیمیکل یا ادویات کے ذریعے نامرد بنایا جائے گا۔

علاوہ ازیں آرڈیننس کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم کی جانب سے فنڈ تشکیل دیا جائے گا جست خصوصی عدالتوں کے قیام اور دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

مزید برآں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے فنڈ میں گرانٹ دی جائے گی اور ان کے علاوہ مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایجنسیوں، نجی کمپنیوں اور شخصیات سے بھی امداد حاصل کی جائے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں