یونان کشتی حادثہ

یونان کشتی حادثے میں 300 پاکستانیوں میں صرف 14 زندہ بچ سکے۔ حکام

اسلام آباد (پاک صحافت) حکام کا کہنا ہے کہ یونان کشتی حادثے میں 300 پاکستانیوں میں صرف 14 زندہ بچ سکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سید حسین طارق کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی ارکان زیب جعفر اور مشاہد حسین سید نے وزارت اوورسیز حکام سے یونان کشتی حادثے پر سوالات کیے۔ وفاقی سیکرٹری اوورسیز پاکستانیز نے بریفنگ دی کہ کشتی میں 300 پاکستانیوں سمیت 750 لوگ غیر قانونی سفر کررہے تھے۔ پاکستانیوں کی تعداد کا اندازہ اسمگنک میں ملوث افراد سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر لگایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ گہرے ترین سمندر میں کشتی ڈوبنے کی حتمی وجوہات سامنے نہیں آسکیں، دو سطح پر تحقیقات ہو رہی ہیں، حکومت حقائق جلد سامنے لائے گی۔ اس وقت لواحقین کی سہولت اور ڈی این اے سیمپلنگ پر توجہ مرکوز ہے۔ کمیٹی کو دوران بریفنگ بتایا گیا کہ 750 افراد میں سے 81 کی موت کی تصدیق ہوچکی۔ پہلے 12 زندہ پاکستانیوں کی شناخت ہوئی، اب مزید دو سے رابطہ ہوگیا ہے۔

دوسری جانب ایف آئی اے حکام کے مطابق رواں سال فروری میں پیش آنے والے لیبیا کشتی حادثے کے دو اہم کردار محسن جاوید اور شرافت کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزمان نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے نوجوان عمیر یحیی کے ورثا سے بیرون ملک بھجوانے کے عوض پچیس لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں

پارلیمنٹ

صدارتی انتخاب کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 9 مارچ کو طلب

اسلام آباد (پاک صحافت) ملک میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے