فوج مخالف بیانات دینے والوں کو نہیں بخشیں گے: وزیر اعظم

فوج مخالف بیانات دینے والوں کو نہیں بخشیں گے

کوئٹہ (پاک صحافت) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ فوج مخالف بیانات دینے والے سن لیں کہ انہیں بخشا نہیں جائے گایقین رکھیں کہ فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کا علاج ہوگا۔اپوزیشن اپنے پالیسیوں پر نظر ثانی کرے ۔ ملک حکمرانوں کی کرپشن سے تباہ ہوتے ہیں۔

کوئٹہ میں ڈیجیٹل میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خواجہ آصف وزیر دفاع اور وزیر خارجہ ہوتے ہوئے باہر کی ایک کمپنی کی ملازمت کررہا تھا جب کہ نوازشریف، احسن اقبال اور خواجہ آصف نے بیرون ممالک کے اقامے لے رکھے تھے، ملک کا وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ باہر کی کمپنیوں میں ملازمت کررہے تھے، اقامے لینے کا مقصد لوٹے ہوئے پیسے کا تحفظ تھا، اقاموں کی وجہ سے بیرون ملک منتقل کی گئی رقم کی واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔

مزید پڑھیں: دشمن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے فسادات کرا رہا ہے: شبلی فراز

وزیراعظم نے کہا کہ اگر کرپٹ ٹولے کو این آر او دے دوں تو زندگی آسان ہوجائے گی، میں نے این آر او نہ دینے کے مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے، مشرف ان دونوں جماعتوں سے بہتر تھا لیکن اس نے ان کو این آر او دے کر غلط کیا، میں نے مشرف کے دونوں این آر اوز کی مخالفت کی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک نچلے طبقے کی کرپشن سے نہیں حکومت اور حکمرانوں کی کرپشن سے تباہ ہوتے ہیں، پی ڈی ایم چوروں، لٹیروں اور ڈاکوؤں کا ٹولہ ہے تاہم یہ فیصلہ کن جنگ ہے اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکوں گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان انہیں جماعتوں کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں آیا، یہ ملک کو بلیک لسٹ کرانا چاہتے تھے، ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر مجھے بلیک میل کیا گیا، مجھ سے تحریری طور پر این آر او مانگا گیا، آج زرداری اور نوازشریف اکھٹے ہوچکے ہیں، میں بہت پہلے جانتا تھا کہ یہ ایک ہوجائیں گے، ان کی کرپشن پر تو کئی ڈاکومنٹریز بن چکی ہیں اور پوری دنیا میں ان کی کرپشن کے چرچے ہیں۔

وزیراعظم نے مزید  کہا کہ یقین رکھیں کہ فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کا علاج ہوگا، اداروں پر حملے کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، یہ فوج سے کہہ رہے ہیں کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دو، نوازشریف باہر بیٹھ کر فوج میں بغاوت کرانا چاہتا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جمہوری دور میں اداروں کو اس طرح بدنام کیا جارہا ہے، پہلے ہمیشہ مارشل لا میں فوجی قیادت پر تنقید ہوتی تھی لیکن موجودہ جمہوری دور میں فوجی قیادت کو کیوں نشانہ بنارہے ہیں، اپنی کرپشن اور لوٹ مار کو بچانے کے لیے اداروں پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں