ذکی الرحمن لکھوی کو پندرہ سال کی سزا 

ذکی الرحمن لکھوی کو پندرہ سال کی سزا 

اسلام آباد(پاک صحافت)   انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے لشکر طیبہ کے زیرحراست عسکریت پسند گروپ کے رہنما ذکی الرحمن لکھوی کو 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔اے ٹی سی کے جج اعجاز احمد بٹار نے فیصلہ سنایا اور جنگجو سرگرمیوں کے لئے رقوم اکٹھا کرنے اور تقسیم کرنے ومیڈیکل ڈسپنسری چلانے پر لکھوی کو تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی۔

تفصیلات کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران ، نصیرالدین خان نیئر اور محمد عمران فضل گل کا معائنہ کیا گیا۔اس ماہ کے شروع میں ، پنجاب پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ذکی الرحمان لکھوی کو دہشت گردی کے فنانسنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔یہ گرفتاری دہشت گردی کی مالی اعانت کے سلسلے میں کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی ادارے اپنا کردار ادا کریں: آرمی چیف

ایک ترجمان نے کہا ’’ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ کے رہنما ذکی الرحمن لکھوی (کو) دہشت گردی کی مالی اعانت کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی ایک کمیٹی نے لکھوی کو تحریک لبیک کا عملیہ کا سربراہ سمجھا ہےاور اس پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ ہندوستان ، چیچنیا ، بوسنیا ، عراق اور افغانستان سمیت متعدد دوسرے خطوں اور ممالک میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

لکھوی کو خاص طور پر بھارت کے تجارتی شہر ممبئی میں ہوئے حملوں میں ملوث سمجھاجاتاہے اور بھارت کئی بار یہ مطالبہ کرچکاہے کہ ملزم کو اس کے حوالے کیاجائے تاکہ وہ اس کاٹرائل کرسکے لیکن پاکستان نے ہر بار اس سے انکار کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت الزامات کے ثبوت پیش کرے جس پر کارروائی کی جائے گی ۔

لکھوی کی گرفتاری ایسے موقعہ پر ہوئی ہے جب حال ہی میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا اور اس پر عسکریت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے کا سخت دباوٴ ہے ۔کئی ممالک کو پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں